کوئٹہ(این این آئی)ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی قیادت خطے میں امن کے قیام اور حالات کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں صوبائی وزیر تعلیم اور سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید خان درانی کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے افطار ڈنر کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم خان بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی سفارتی و عملی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ تنازعات اور اختلافات کا حل جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارتکاری میں پوشیدہ ہے۔ اگر معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں، جس سے عالمی تجارت، معیشت اور عام لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کا قیام نہایت ضروری ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے اور عوام کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔افطار ڈنر کے دوران صوبہ بلوچستان کی مجموعی سیاسی، معاشی اور اقتصادی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سیدال خان ناصر نے کہا کہ موجودہ حکومت تعلیم، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور امید ہے کہ ان مؤثر پالیسیوں کے نتیجے میں بلوچستان سمیت ملک کے دیگر پسماندہ علاقوں میں ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک نہایت اہم اور حساس صوبہ ہے اور اس کی ترقی و خوشحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تعلیم، صحت، مواصلات، تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پوری قوم کو متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ہم سب کو ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

