قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 256کے ضمنی انتخابات کیلئے پارٹی سربراہ نابزادہ میراسراراللہ زہری کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنا سمجھ سے بالاتر ہے، بی این پی (عوامی)

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) نے این اے 256 خضدار کے ضمنی انتخاب میں پارٹی کے سربراہ سابق سینیٹر اور سابق وفاقی وزیر نوابزادہ میر اسرار اللہ خان زہری کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کیے جانے کے عمل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔پارٹی بیان کے مطابق ریٹرننگ آفیسر نے ایک تکنیکی اعتراض کی بنیاد پر نوابزادہ میر اسرار اللہ خان زہری کے کاغذاتِ نامزدگی کو جانچ پڑتال کے مرحلے میں درست اور اہل قرار نہیں دیا۔ اعتراض یہ اٹھایا گیا کہ این اے 256 خضدار کے ضمنی انتخاب کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات کے ساتھ شناختی کارڈ کی نقل پر کسی گزیٹڈ آفیسر کے دستخط موجود نہیں تھے تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتراض سرے سے ہی بے بنیاد ہے۔ جمع کرائے گئے کاغذاتِ نامزدگی کی نقول بطورِ ثبوت موجود ہیں جو واضح کرتی ہیں کہ جس نکتے کو بنیاد بنا کر اعتراض اٹھایا گیا وہ اپنی جگہ موجود ہی نہیں۔بیان میں کہا کہ پارلیمانی سیاست کے طویل تجربے رکھنے والے جمہوری سیاسی رہنماؤں کو اس نوعیت کے تکنیکی نکات کے ذریعے عملی سیاست کے میدان سے باہر رکھنے کی روایت نہایت تشویشناک ہے ایسے اقدامات نہ صرف جمہوری عمل کی روح کے منافی محسوس ہوتے ہیں بلکہ اس تاثر کو بھی تقویت دیتے ہیں کہ اصولوں اور عوامی مینڈیٹ کے بجائے طریقہ کار کو بنیاد بنا کر سیاسی راستے محدود کیے جا رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ جب بلوچ قوم کے پارلیمانی سیاسی رہنما اس طرح کے اقدامات کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں تو بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ بلوچ پہاڑوں کی سیاست کرتے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے سیاسی قیادت نے ہمیشہ آئین قانون اور پارلیمان کے دائرے میں رہ کر سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے مگر جب اسی آئینی راستے میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں تو یہ صورتحال جمہوری عمل اور سیاسی انصاف کے بارے میں سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے مطابق جمہوری نظام کی مضبوطی اسی وقت ممکن ہے جب آئینی اور پارلیمانی عمل کو بلا امتیاز، شفاف اور منصفانہ انداز میں آگے بڑھایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں