کوئٹہ (این این آئی)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینیئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، مرکزی مجلسِ فقہی کے سربراہ و ضلعی سرپرستِ اعلیٰ مفتی محمد روزی خان، حاجی بشیر احمد کاکڑ، مولانا حفیظ اللہ، مولانا محمد سلیمان، حافظ دوست محمد مدنی، مولانا عبدالبصیر، حافظ رشید احمد، حاجی محمد شاہ لالا، مفتی نیک محمد، حاجی نعمت اللہ اچکزئی اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ کوئٹہ کے اکثر علاقوں میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ عوام کے لیے وبالِ جان بن چکی ہے۔ ماہِ رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں سحری اور افطاری کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے سرکاری دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں اور عملی طور پر صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شہری شدید مشکلات اور اذیت کا شکار ہیں۔ خصوصاً افطاری کے وقت بجلی کی بندش سے روزہ داروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے امور خانہ داری سمیت کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ نام نہاد حکومتی نمائندے عوامی مسائل پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور انہیں زمینی حقائق کے بجائے سب کچھ ٹھیک نظر آ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے انہیں بنیادی سہولیات سے بھی محaروم کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ عوام کے صبر کا امتحان بن چکی ہے۔ حکومت اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لیں اور کم از کم سحری اور افطاری کے اوقات میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

