کراچی (اسٹاف رپورٹر) بلدیہ کراچی میں بیڈ گورننس اور کرپٹ افسران کی اجارہ داری نے ادارے کو بدترین کرپشن کا گڑھ بنا دیا ہے۔ فائر بریگیڈ کے چیف فائر افسر ہمایوں خان اور شاہد قادری نے ملکر ادارے اور محکمہ کو تباہی کے آخری کنارے تک پہنچا دیا ہے۔ پہلے ترقیوں میں بھاری رشوت لی گئی۔ اسکے بعد پرانی تاریخوں میں ایک ہزار جعلی تقرریاں کی گئیں۔ محکمہ کو سیاست کا گڑھ بنا دیا گیا ہے۔ فائر بریگیڈ کے مکانات کرائے پر دینے، گیر متعلقہ افراد کو دینے اور شاہد قادری کو بھی الاٹ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ہمایوں خان اور شاہد قادری نے فائر بریگیڈ کو ٹھیکے پر لے لیا ہے۔ فائر بریگیڈ میں تمام مکانوں کی الاٹمنٹ پیپلز پارٹی کی لیبر یونین کے شاہد قادری کرتے ہیں۔ جنہیں اسلم سموں کی سرپرستی حاصل ہے۔ انکی مداخلت کا یہ عالم ہے کہ کس کا تبادلہ کرنا ہے کس کو گھر دینا ہے کس کو فائدہ دینا ہے کس کو فائر اسٹیشن میں دستوری نظام کے تحت رکھنا ہے تاکہ آدھی آدھی تنخواہ پر کاروبار چل سکے۔ ہر کام کے لاکھوں روپے لئے جا رہے ہیں۔تبادلہ کرانے کے ایک لاکھ فکس کردیئے گئے ہیں۔ ناظم آباد میں فائر اسٹیشن میں ایسے مکانات ہیں جنکے اندر رہائش پزیر بلدیہ کراچی اور محکمہ کے ملازم ہی نہیں ہیں۔ باہر کے بندے کو کرائے پر دیا گیا ہے۔ اسی طرح نارتھ کراچی میں بھی یہی کاروائی کی گئی ہے جبکہ سائٹ ایریا میں فائر اسٹیشن کی لینڈ پر دکانیں بنا کر بیچ دی گئی ہیں۔ سہراب گوٹھ، لانڈھی اور مختلف اسٹیشن میں بھی زمینیں فروخت کرنے کے علاوہ اضافی جگہ پر مکانات کی تعمیر بھی کی گئی ہے۔ جسکی نہ منظوری لی گئی ہے اور نہ قانونی طور پر اجازت ہے۔ اسٹیشن افسر رشوت لے کر ان جگہوں کو غیر متعلقہ افراد کو بسا چکا ہے۔ سب سے خطرناک عمل یہ ہے کہ کے ایم سی فلیٹس میں بلدیہ کراچی کے ملازم ہی نہیں ہیں۔ٹاؤنز اور غیر متعلقہ افراد یہاں رہ رہے ہیں جبکہ لازمی سروس کے اس ادارے میں کسی بھی غیر متعلقہ فرد کی اجازت نہیں۔ وائر لیس اور جدید حساس آلات کا غلط استعمال اور ملک میں جنگی حالات میں یہ انتہائی خطرناک اور ملک دشمنی پر مبنی عمل ہے۔ شاہد قادری نے خود کو اسٹیشن افسر ظاہر کرکے مکان الاٹ کرایا ہے۔ جبکہ شاہد قادری کی ترقی بھی جعلی ہے۔ وہ جعلسازی سے فائر مین بن چکے ہیں۔جونیئر ترین ملازم بائی پاس کرکے سینئر ملازم بن گیا ہے۔ جبکہ گل پلازہ کیس میں ہمایوں خان کی نا اہلی اور بغیر ٹریننگ کے چیف فائر افسر بننے کی بھی انکوائری چل رہی ہے۔ سعد صدیقی اور شاہد قادری نے ہمایوں خان کے ساتھ ملکر پٹرول، ڈیزل فراڈ اور گاڑیوں کی مرمت کے نام پر بھی گڑ بڑ گٹالے کئے ہیں۔ جبکہ ایک ارب کا فراڈ مختلف مدوں میں کیا چا چکا ہے۔ مذید بھرتی کے لئے بھی رقوم وصول کی جا چکی ہیں اپنے داماد اور رشتہ داروں کو کئی کئی چارج دے کر اقرباء پروری کی بدترین مثال قائم کی گئی ہے۔ میونسپل کمشنر ابرار احمد جعفر سے کے ایم سی فائر بریگیڈ ملازمین اور سیاسی سماجی حلقوں نے فوری کاروائی کی اپیل کی ہے۔ جبکہ مئیر کراچی اور افضل زیدی نے کبھی کوئی ایکشن نہیں لیا۔ فیصل رضوی، سہیل احمد، عدنان زیدی، سمیرا حسن کے بعد فائر بریگیڈ میں بھی زمینوں کی فروخت اور مکان کرائے پر دینے دکانیں بنانے کے اسکینڈل نے مئیر کی گورننس پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں جو کرپٹ افسران کے خلاف کاروائی سے گریزاں ہیں۔ فائر بریگیڈ ملازمین نے بلاول بھٹو سے انصاف اور شاہد قادری، سعد صدیقی، ہمایوں خان اور انکی چین کے خلاف سخت کاروائی کی اپیل کی ہے۔ جبکہ اینٹی کرپشن کو بھی خط لکھ دیئے گئے ہیں۔
جاری کردہ دی وائس آف جرنالسٹ فریڈم

