کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان کے ضلع خضدار سے گرفتار ہونے والی خودکش بمبار خاتون لائبہ عرف فرزانہ نے انکشاف کیا ہے کہ اسے پہلے تحریک طالبان پاکستان کے ایک کمانڈر نے خودکش بمبار بننے کی تربیت دی جس کے بعد اسے بی ایل اے کے حوالے کیا گیاجو اسے مزید خودکش بمبار خواتین کو تنظیم کاحصہ بنانے کے لیے استعمال کر رہے تھے تاہم کیمپ میں پہنچنے اور خودکش حملے سے قبل ہی وہ گرفتار ہوگئی۔ بدھ کو وزیراعلیٰ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خود کش بمبار خاتون لائبہ عرف فرزانہ نے بتایا کہ وہ خضدار کی تحصیل زہری کے گاؤں چشمہ کی رہائشی ہیں گزشتہ سال جولائی میں اسکا رابطہ تحریک طالبان کے کمانڈر ابراہیم عرف قاضی ماما سے ہوا اور بعد میں کمانڈر ابراہیم سے اس کی ملاقات بھی ہوئی کمانڈر ابراہیم نے خودکش بننے کے لیے اس کی ذہن سازی کی اس کی باتوں سے متاثر ہو کر میں خود کش حملے کے لیے راضی ہوئی۔ لائبہ عرف فرزانہ نے بتایا کہ کمانڈر ابراہیم نے اسکا رابطہ بی ایل اے کے کمانڈر دلجان سے کروایا کمانڈر دلجان نے مجھے بتایا کہ وہ مجھے خودکش حملے کی ٹریننگ کے لیے بی وائی سی کی ڈاکٹر صبیحہ سے ملوائے گا۔انہوں نے مجھے یہ ذمہ داری دی کہ میں مزید لڑکیوں کو خود کش حملوں کے لیے تیار کروں جس کے بعد کمانڈر دلنجان نے مجھ سے ملاقات کر کے کیمپ لیکر جانا اور خودکش مشن کے لیے ہدف کا بتانا تھا تاہم مجھے خضدار پہنچنے پر گرفتار کرلیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کمانڈر ابراہیم میری ذہن سازی کر کے مجھے غلط استعمال کرنے کی کوشش کی میں آج کے بعد ایسے غلط کام نہ کرنے کا اعادہ کرتی ہوں اور اپنے جیسی تمام لڑکیوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ وہ ایسے غلط کاموں سے خود کو دور رکھیں۔دوسری جانب وزیراعلیٰ اور سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ لائبہ عرف فرزانہ شوہر کا نام ممتاز ہے لڑکی کابنیادی تعلق چشمہ زہری سے ہے اسکا ایک بھائی اور دو بہنیں ہیں یکم دسمبر دوہزار پچیس کو ہیومن انٹیلی جنس کی بنیاد پر اہم کارروائی ہوئی جسکے نتیجے میں انہیں گرفتار کیا گیا اپنی چھوٹی بہن کے منگیتر کی مدد سے اسکا رابطہ کالعدم تنظیم سے ہوا جس کے کمانڈر ابراہیم سے رابطے کے بعد کمانڈر دلجان سے رابطہ کروایا گیا جس نے نے اسے بتایا کہ آئندہ چند روزْمیں وہْ اس سے ملکر اسے ڈاکٹر صبیحہ کے سپرد کرینگے اسہی دوران انٹیلی جنس معلومات پر گرفتاری ہوئی۔

