پاکستان کے پاس ایسے میزائل ہیں جن سے امریکا کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، امریکی انٹیلی جنس چیف

امریکا کی انٹیلی جنس چیف تلسی گبارڈ نے کہا ہے کہ ایران گزشتہ سال کے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت دوبارہ بحال نہیں کر رہا تھا۔

واشنگٹن میں سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2025 میں ہونے والی امریکی کارروائی، جسے ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کہا گیا، کے نتیجے میں ایران کا جوہری پروگرام شدید متاثر ہوا تھا اور اس کے بعد اسے دوبارہ شروع کرنے کی کوئی کوشش نہیں دیکھی گئی۔

امریکا میں انٹیلی جنس امور سے وابستہ شخصیت گبارڈ نے پاکستان کے حوالے سے امریکا قانون سازوں کو بتایا کہ پاکستان کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کا پروگرام ممکنہ طور پر ایسے انٹرکانٹی نینٹل بیلسٹک میزائلز (ICBMs) بھی شامل کر سکتا ہے جو امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

تحریری جائزہ رپورٹ میں اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے پاکستان کو متعدد خطرات کے زمرے میں شامل کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان مسلسل زیادہ جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو ایسے میزائل نظام بنانے کے قابل بناتی ہے جو جنوبی ایشیا سے باہر اہداف کو نشانہ بنا سکیں اور اگر یہ رجحان جاری رہا تو مستقبل میں ایسے ICBMs بھی بن سکتے ہیں جو امریکا کے لیے خطرہ ہوں گے۔

وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (WMD) کے حوالے سے رپورٹ کا کہنا تھا کہ پاکستان، چین، شمالی کوریا اور روس کے ساتھ مل کر غالباً ایسے نظاموں کی تحقیق، ترقی اور تعیناتی جاری رکھے گا جو:

ان کی رینج اور درستگی میں اضافہ کریں

امریکی میزائل دفاعی نظام کو چیلنج کریں

WMD کے استعمال کے نئے آپشنز فراہم کریں

رپورٹ میں جنوبی ایشیا کو “مسلسل سکیورٹی چیلنجز” کا حامل خطہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات اب بھی “ایٹمی تصادم کے خطرے” سے دوچار ہیں۔

اس میں گزشتہ سال مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مسلح گروہوں کی کارروائیاں کس طرح بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ
“صدر ٹرمپ کی مداخلت نے حالیہ ایٹمی کشیدگی کو کم کرنے میں کردار ادا کیا”
اور یہ کہ
“دونوں ممالک کھلی جنگ کی طرف واپس جانا نہیں چاہتے۔”

رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی کہ امریکی سرزمین کو درپیش میزائل خطرات کی تعداد، جو اس وقت 3,000 سے زائد ہے، 2035 تک بڑھ کر کم از کم 16,000 تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ بیان امریکی صدر ٹرمپ کے اس مؤقف کے برعکس ہے جس میں وہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو جنگ کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ اور ان کے حکام نے ایران کے ممکنہ جوہری خطرے کو بنیاد بنا کر اسرائیل کے ساتھ مل کر جنگی کارروائی کا جواز پیش کیا تھا۔

دوسری جانب ایران نے ہمیشہ جوہری ہتھیار بنانے کے الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ بین الاقوامی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ اگر ایران ایسا کرنا بھی چاہے تو اسے اس مقصد کے حصول میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

ادھر امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران کی میزائل اور بحری صلاحیتوں کو بھی کافی حد تک نقصان پہنچا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ایران اب بھی خطے میں اپنے مفادات کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں۔

مزید برآں، امریکی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران جنگ کی مخالفت میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران امریکا کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا اور جنگ کا فیصلہ درست نہیں تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں