ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ 20 ویں روز میں داخل ہو گئی ہے، جبکہ خطے میں حملوں اور کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملہ کیا، جو دنیا کا سب سے بڑا گیس ذخیرہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک کی تیل و گیس تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس میں قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی میں آگ لگ گئی۔
ایرانی حکام نے اسرائیل پر اعلیٰ سیکیورٹی عہدیداروں کے قتل کا الزام لگاتے ہوئے سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے شمالی ایران میں بھی پہلی بار حملے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خلیجی ممالک میں بھی صورتحال کشیدہ ہے، جہاں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایران کے میزائل حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ قطر نے حملوں کے بعد ایرانی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
امریکا میں بھی اس جنگ کے حوالے سے اختلافات سامنے آئے ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس چیف تلسی گبارڈ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی رپورٹ میں ایران سے متعلق کچھ اہم معلومات کو مکمل طور پر پیش نہیں کیا۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو فوری خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔
دوسری جانب لبنان، عراق اور دیگر علاقوں میں بھی اس جنگ کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں، جہاں جھڑپیں جاری ہیں اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس تنازع کا عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی اثر پڑ رہا ہے اور گیس و تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

