تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ ٹیکس ادا کر رہا ہے، سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ ملک میں تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ مالی بوجھ اٹھانے پر مجبور نظر آتا ہے رواں مالی سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں اس بے بس طبقے نے 365 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں ادا کیے، جو نہ صرف گزشتہ سال سے زیادہ ہیں بلکہ ریٹیلرز، برآمد کنندگان اور دیگر بااثر طبقات کی ادائیگی سے بھی بڑھ چکے ہیں یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ ملک کا سب سے منظم اور دستاویزی طبقہ ہی ریاستی محصولات کا بنیادی ستون بن چکا ہے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان موجود ہے، جو مسلسل ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ ٹیکس نیٹ کا محدود دائرہ کار اور بااثر شعبوں کو مؤثر انداز میں ٹیکس نظام میں شامل نہ کرنا ہے۔ یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوارسینیٹر محمدعبدالقادر نے مزید کہا ہے کہ ریٹیل اور ایکسپورٹ سیکٹرز، جو معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اب بھی یا تو ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں یا اپنی اصل آمدنی کے مطابق ٹیکس ادا نہیں کرتے یہ تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ حکومت ان شعبوں سے ٹیکس وصولی کے معاملے میں سنجیدہ ہی نہیں سیاسی دباؤ، کمزور نفاذ، اور مفادات کے ٹکراؤ نے ٹیکس نظام کو غیر منصفانہ بنا دیا ہے اس کے برعکس، تنخواہ دار طبقہ چونکہ اپنی آمدنی چھپا نہیں سکتا، اس لیے اس پر بوجھ بڑھانا سب سے آسان راستہ سمجھا جاتا ہے اگر یہ رجحان برقرار رہا تو نہ صرف معاشی ناہمواری میں اضافہ ہوگا بلکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید مجروح ہوگا ایک منصفانہ اور پائیدار ٹیکس نظام کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسعت دے، ریٹیلرز اور دیگر بااثر طبقات کو مؤثر انداز میں شامل کرے اور ایف بی آر کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے سخت اصلاحات نافذ کرے۔ بصورت دیگر، ٹیکس کا یہ غیر متوازن ڈھانچہ معیشت کے لیے طویل المدتی خطرہ بن جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں