دینی، سماجی و سیاسی حلقوں کا قومی بیانیے میں توازن اور ذمہ داری پر زور

اسلام آباد (اے ایس این) ملک بھر کے دینی، سماجی اور سیاسی حلقوں نے حالیہ حالات کے تناظر میں قومی بیانیے میں توازن، سنجیدگی اور ذمہ داری اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ حساس قومی و بین الاقوامی معاملات پر جذباتی ردعمل کے بجائے حقیقت پسندانہ اور متحد موقف اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔حلقوں نے فیلڈ مارشل کی جانب سے دی گئی حالیہ بریفنگ کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی اداروں کی طرف سے اہم قومی معاملات پر اعتماد میں لینا خوش آئند ہے، جس سے افہام و تفہیم کی فضا قائم ہوتی ہے۔بیان میں اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ بعض عناصر کی جانب سے مبہم اور جذباتی انداز میں علمائے کرام کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے ہر ایک کا حق ہے، مگر اس کا اظہار شائستگی اور احترام کے دائرے میں ہونا چاہیے۔مزید کہا گیا کہ اہلِ بیت علیہم السلام کے نام پر طنز و تنقید یا تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں قابلِ مذمت ہیں اور ایسے رویے امتِ مسلمہ کے اتحاد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔اے ایس این رپورٹ کیمطابق دینی و سیاسی رہنماؤں نے فلسطین اور ایران کے حوالے سے اختیار کیے جانے والے دوہرے معیار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب فلسطین کے لیے آواز بلند کی جاتی ہے تو اسے سراہا جاتا ہے، مگر ایران کی جانب سے عالمی طاقتوں کے خلاف مؤقف پر خاموشی اختیار کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔انہوں نے مسلم دنیا میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور باہمی اختلافات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں امت کو اتحاد، برداشت اور یکجہتی کی اشد ضرورت ہے تاکہ بیرونی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ دینی، سماجی و سیاسی حلقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ قومی و ملی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے معاشرے میں برداشت، رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں