تین روزہ انٹیریئر زفرنیچر نمائش کا افتتاح 27مارچ ہوگا

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان انٹیریئرز فرنیچر ایکسپو (PIFE) 2026 کا کراچی ایڈیشن 27 مارچ سے 29 مارچ 2026 تک ایکسپو سینٹر کراچی کے ہال نمبر 4، 5 اور 6 میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں ملک بھر سے سرکاری اداروں، معروف کاروباری شخصیات، کراچی چیمبر آف کامرس، سندھ اسمبلی کے اراکین، مختلف ممالک کے اعزازی قونصل جنرلز اور فرنیچر انڈسٹری سے وابستہ اہم اسٹیک ہولڈرز کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ایکسپو میں ملک کے چوٹی کے 100 فرنیچر برانڈز اپنی مصنوعات کی نمائش کریں گے۔ اس موقع پر زیرو ہیلتھ کیئر پاکستان ایونٹ کا آفیشل اسپانسر ہے، جبکہ رائلکس دی لگژری ہوم اسٹور، ایمپائر فرنیچرز، تاج محل، سمر فرنیچرز، ایووول فرنیچرز، وکٹوریہ فرنیچر، کوئٹہ کارپٹ، لوٹس انٹرنیشنل، ہیون انٹیریئر، ازما ہوم، انٹیریئر انسائٹ، کالو فرنیچر اسٹوری، ہیبٹ اور لیزی بوائے سمیت دیگر نمایاں برانڈز بھی اپنی مصنوعات پیش کر رہے ہیں۔نمائش میں آنے والے خریداروں کیلئے مختلف فرنیچرمصنوعات پر 50 فیصد تک خصوصی رعایت بھی دی جا رہی ہے، جس سے شہریوں کو معیاری فرنیچر مناسب قیمت پر خریدنے کا موقع میسر آئے گا۔
پاکستان انٹیریئرز فرنیچر ایکسپو کے سی ای او عدنان افضل کا کہنا ہے کہ یہ نمائش نوجوان ڈیزائنرز اور آرکیٹیکٹس کیلئے بھی بہترین موقع فراہم کرتی ہے تاکہ وہ مارکیٹ کے جدید رجحانات سے آگاہ ہوں اور اپنے کام کو سینئر پروفیشنلز کے ساتھ پیش کر سکیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کی لکڑی کی صنعت کافی ترقی یافتہ ہے جو ملک کی 95 فیصد فرنیچر مارکیٹ کو پورا کرتی ہے۔ ملک میں 700 سے زائد فرنیچر یونٹس موجود ہیں، جن میں چنیوٹ اکیلا 80 فیصد طلب پوری کرتا ہے، جبکہ گجرات، پشاور، لاہور، کراچی اور فیصل آباد بھی فرنیچر سازی کے اہم مراکز ہیں۔ایکسپو کی ڈائریکٹر مدیحہ عدنان نے اس موقع پر کہا کہ فرنیچر کی درآمدات مقامی صنعت کیلئے خطرہ بن سکتی ہیں اور بے روزگاری میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فرنیچر انڈسٹری میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، جو نہ صرف ہنر مند کاریگروں بلکہ بڑے صنعتی یونٹس کیلئے بھی روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فرنیچر کے شعبے کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دیا جائے، ابتدائی مراحل میں سبسڈی فراہم کی جائے اور اس شعبے کی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے تاکہ یہ صنعت ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں