تربت کی معیشت میں کھجور کی پیداوار کے پیش نظر نئی ورائٹی متعارف،عالمی معیار کے مطابق پیکیجنگ سکھانے کیلئے حکمت عملی بنائی جائے، گورنر بلوچستان

کوئٹہ(این این آئی) گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بحیثیت گورنر میں نیمکران ڈویڑن کی تینوں یونیورسٹیوں کا پچھلے دو سالوں کے دوران کئی مرتبہ دورہ کیے، یونیورسٹی کانووکیشنز میں شرکت کی اور یونیورسٹی آف تربت کے تو مختلف سینیٹ اجلاسوں کی خود صدارت کی۔ جس کے نتیجے میں ہماری شعوری کوششوں اور سخت نگرانی کے شاندار نتائج برآمد ہونے لگے ہیں۔ خوشی کا لمحہ ہے کہ یونیورسٹی آف تربت کی رینکنگ 69فیصد سے بڑھ کر87فیصد ہوچکی ہے تربت یونیورسٹی کے پورے سسٹم کو ڈیجیٹائز کرنے اور بجلی کے روایتی نظام کو سولر انرجی پر منتقل کرنے پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن اور ان کی پوری ٹیم خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کے ساتھ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے وائس چانسلر کو مارکیٹ کی نئی ضرورتوں کے مطابق سکل ڈویلپمنٹ پر توجہ مرکوز کرنے والے مختصر کورسز متعارف کرانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے تربت کی مقامی معیشت میں کجھور کی پیداوار کے کلیدی کردار کے پیش نظر کجھور کی نئی ورائٹی متعارف کروانے اور عالمی معیار کے مطابق پیکیجنگ سکھانے کیلئے بھی حکمت عملی بنائیں۔ گورنر جعفرخان نے کہا کہ صوبہ میں ہائیر ایجوکیشن کے فروغ کو روز اول سے اولیت دی ہے اور ساتھ یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ ہمارے ابھرتے نواجوان اپنے اساتذہ کرام اور تعلیمی اداروں کا بہت احترام کرتے ہیں۔ وائس چانسلر کا عہدہ ایک اعزاز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اپنے منصب اور یونیورسٹی میں تمام دستیاب وسائل کو اپنے اعلیٰ تعلیمی ادارے اور متصل علاقوں کے ں ہترین مفاد میں بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ہم سب کیلئے باعث فخر و مسرت ہے کہ یونیورسٹی آف تربت میں طالبات کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ یونیورسٹی کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے ٹیم ورک کی اشد ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں