کوئٹہ(این این آئی)قابض طالبان رجیم نے اقلیتوں خصوصاً مسیحی برادری کے لئے افغان سرزمین تنگ کردی،افغان طالبان رجیم میں مسیحی برادری افغانستان میں خوف اور جبر کے سائے زندگی گزارنے پر مجبورہے برطانوی جریدے نے طالبان رجیم میں اقلیتی برادری پرہونے والے مظالم اوربدترین ناانصافیوں کو بے نقاب کردیا۔برطانوی جریدہ چرچ ٹائمزکے مطابق طالبان کی واپسی سے افغانستان میں عوامی زندگی یکسربدل گئی،مسیحی برادری کیلئیمذہبی آزادیوں کامکمل خاتمہ ہوگیا،افغانستان میں کوئی عوامی چرچ موجودنہیں، سرکاری ریکارڈمیں مسیحیوں کواقلیتی برادری کیطور پرتسلیم نہیں کیاجاتا، طالبان کاخوف افغان مسیحی دوہری زندگی گزارنیپرمجبورہیں جہاں وہ بندکمروں میں چھپ کرعبادات کرتے ہیں۔برطانوی جریدہ چرچ ٹائمز کے مطابق غاصب طالبان رجیم میں مسیحی برادری سرکاری ملازمتوں اور علاج معالجے سے بھی محروم ہے،دیگر اقلیتوں کی تعداد بھی تیزی سے کم ہوئی، حالیہ برسوں میں بہت سے سکھ اور ہندو افغانستان چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ماہرین کے مطابق افغانستان میں طالبان رجیم کیبعدمذہبی و نسلی اقلیتوں خصوصاً مسیحی برادری کو شدید دباؤ، عدم تحفظ اور سماجی پابندیوں کا سامنا ہے،موجودہ سیاسی و سماجی ڈھانچہ اقلیتوں کیلئے سازگار نہیں رہا جبکہ عالمی سطح پر افغانستان ایک غیر محفوظ ملک بن چکاہے۔

