ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے افغانستان کے بارے میں اپنی ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باعث ایران کے چاہ بہار اور بندر عباس بندرگاہوں کے راستے ہونے والی درآمدات میں کمی آئی ہے، تاہم فی الحال افغانستان کی مارکیٹ مجموعی طور پر مستحکم ہے۔
رپورٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں بعض غذائی اور غیر غذائی اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔
اگرچہ افغانستان اور ایران کی سرحد سے سپلائی مکمل بند نہیں ہوئی، لیکن اس میں واضح کمی آئی ہے۔
اس کمی کو وسطی ایشیائی ممالک سے ہونے والی درآمدات نے کسی حد تک پورا کر دیا ہے، جس سے مارکیٹ میں استحکام برقرار ہے۔
ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ ایران افغانستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور افغانستان کی مجموعی درآمدات کا تقریباً 40 فیصد ایران سے آتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باعث ایران کی سرحد سے آنے والی درآمدات کم ہوئی ہیں، لیکن ترکمانستان کے راستے تورغندی سرحد پر تجارت بدستور جاری ہے۔
اسی سرحد سے گندم اور تیل بھی درآمد کیا جاتا ہے، جو مارکیٹ کو سہارا دے رہا ہے۔ تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ مغربی سرحد پر مسلسل بندش آئندہ ہفتوں میں مارکیٹ پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راستے تقریباً پانچ ماہ سے بند ہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارت مکمل طور پر معطل ہے۔
پاکستان اکنامک سروے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تقریباً ایک ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان دنیا میں افغانستان سے اشیا درآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے اور افغانستان کی 27 فیصد برآمدات پاکستان کو بھیجی جاتی ہیں۔
رپورٹ نے یہ بھی بتایا کہ اس ہفتے ڈالر کے مقابلے میں افغان کرنسی مستحکم رہی، جس نے بھی غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ روکنے میں کردار ادا کیا۔
کیا مہنگا ہوا اور کیا سستا؟
رپورٹ کے مطابق پچھلے ہفتے کے مقابلے میں ٹماٹر اور آلو کی قیمتوں میں بالترتیب 7.6 فیصد اور 5.7 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ ایران کی سرحد سے سپلائی میں کمی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مقامی پیداوار مارکیٹ میں آتے ہی ان قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔
پیاز کی برآمدات میں کمی کے باعث مارکیٹ میں اس کا سٹاک زیادہ موجود ہے، اسی لیے اس کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
مزید یہ کہ تیل اور دالوں کی قیمتوں میں بھی اس ہفتے کمی ہوئی جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 0.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق چاول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کی وجہ پاکستان سے برآمدات کی بندش ہے۔
سپلائی لائن متاثر ہونے کے باوجود مارکیٹ مستحکم کیوں؟
افغانستان کی پاکستان کے ساتھ تجارت معطل ہے اور ایران سے سپلائی بھی متاثر ہو رہی ہے، لیکن اس کے باوجود ملک میں مہنگائی میں نمایاں اضافہ نظر نہیں آتا۔
معاشی ماہرین اس کا سبب افغانستان کی مجموعی غیر مستحکم معیشت کو قرار دیتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
افغانستان کے ماہر معاشیات اور طالبان دور سے پہلے ’دا افغانستان بینک‘ کے ڈپٹی گورنر رہ چکے خان افضل ہڈاوال کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کی اقتصادی نمو منفی ہو گئی تھی اور جی ڈی پی میں 25 فیصد کمی دیکھی گئی۔
’ملک ڈیفلیشن کا شکار ہوا، یعنی سپلائی زیادہ اور قوتِ خرید کم ہوگئی، جس کے نتیجے میں اشیا کی قیمتیں نیچے آگئیں۔‘
خان افضل کے مطابق نیٹو افواج، بین الاقوامی اداروں اور سفارتی مشنز کے انخلا کے بعد ملکی ڈیمانڈ میں شدید کمی آئی کیونکہ خریداری کرنے والے بڑے طبقے ملک چھوڑ گئے۔
’یوں سپلائی زیادہ اور خریدار کم ہونے کے باعث مارکیٹ مجموعی طور پر مستحکم رہی۔‘
انہوں نے بتایا کہ افغانستان کی معیشت کا 30 فیصد زرعی شعبے پر مشتمل ہے۔ پاکستان کے ساتھ سرحد بند ہونے سے مقامی زرعی اجناس کی بڑی مقدار افغانستان کی اپنی مارکیٹ میں آگئی، جس نے بھی قیمتوں کو مستحکم رکھا۔
خان افضل کے مطابق افغان کرنسی کے مستحکم رہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ بین الاقوامی برادری کے انخلا کے بعد افغانی کی طلب کم ہوگئی اور مارکیٹ میں سپلائی زیادہ رہی جبکہ طالبان نے دیگر کرنسیوں میں تجارت پر بھی پابندی عائد کی۔
پشاور یونیورسٹی کے اقتصادیات کے استاد پروفیسر ڈاکٹر ذلاکت کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باوجود افغانستان کی مارکیٹ کے مستحکم رہنے کی کئی وجوہات ہیں۔
ان کے مطابق درآمدات میں کمی کا مطلب ہے کہ بین الاقوامی تجارت کے لیے ڈالر کی مانگ کم ہو گئی ہے۔ ڈالر کی کم گردش کے باعث افغانی کرنسی مستحکم رہی۔
ڈاکٹر ذلاکت کے مطابق قوت خرید میں کمی کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ نہیں ہوا کیونکہ ڈیمانڈ کم ہے تو قیمتیں بھی بڑھ نہیں سکتیں۔
’اس کے علاوہ طالبان نے ڈالر کی سمگلنگ پر پابندیاں سخت کی ہیں جس سے افغانی مزید مستحکم ہوا۔‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اب بھی مختلف بین الاقوامی تنظیمیں ڈالر کی صورت میں امداد فراہم کرتی ہیں، جس سے ملکی مارکیٹ میں ڈالر کی دستیابی میں اضافہ ہوتا ہے اور افغانی اپنی قدر برقرار رکھنے میں کامیاب رہتا ہے۔

