ٹراما سینٹر کیلئے منتخب امیدواروں کی لسٹیں عوام کے سامنے نہ لانا کرپشن کا ثبوت ہے،پی ایم اے بلوچستان

کوئٹہ(این این آئی)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) بلوچستان کے ترجمان نے ٹراما سینٹر میں ہونے والی حالیہ ریکروٹمنٹ اور پروکیورمنٹ کے عمل پر شدید تحفظات اور سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم ڈی ٹراما سینٹر کو متعدد بار آگاہ کرنے کے باوجود ریکروٹمنٹ سے متعلق تمام فہرستیں، بالخصوص منتخب امیدواروں کی لسٹیں، عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں جو کھلی کرپشن اور شفافیت کے فقدان کی واضح مثال ہے پی ایم اے مطالبہ کرتی ہے کہ ریکروٹمنٹ کے تمام مراحل اور فہرستیں فوری طور پر عوام کے سامنے پیش کی جائیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اسی طرح، ٹراما سینٹر میں مشینری، انسٹرومنٹس اور فرنیچر کی مد میں ہونے والی تمام پروکیورمنٹ کی تفصیلات بھی منظرِ عام پر لائی جائیں یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے اور عوام کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ جان سکیں کہ ان کے وسائل کہاں اور کیسے خرچ کیے جا رہے ہیں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ ہمیں شدید تشویش ہے کہ ٹراما سینٹر میں الٹیر یشن کے نام پر اربوں روپے کے ممکنہ غبن کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں مزید برآں ریکروٹمنٹ کے عمل میں کھلی اقربا پروری دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں بھانجوں، بھانجیوں، بھتیجوں اور بھتیجیوں کو بغیر متعلقہ ڈگریوں اور اہلیت کے ٹیکنیکل پوسٹوں پر تعینات کیا جا رہا ہے یہ عمل نہ صرف میرٹ کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ صوبے کے عوام کی جانوں کے ساتھ خطرناک کھیل کے مترادف ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن بلوچستان اس بات کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ سینئر اور تجربہ کار افراد کو نظر انداز کر کے جونیئر افراد کو نوازنا ناانصافی اور بدانتظامی کی بدترین مثال ہے مزید یہ کہ ایک ہی ضلع سے سینکڑوں غیر منصفانہ بھرتیاں صوبے کے دیگر اضلاع کے ساتھ کھلی زیادتی کے مترادف ہیں۔ترجمان نے کہا کہ پی ایم اے اس امر کی بھی سخت مذمت کرتی ہے کہ ایک مکمل طور پر تیار عمارت میں الٹیر یشن کے نام پر اصل تعمیراتی لاگت سے بھی زیادہ اخراجات ظاہر کیے جا رہے ہیں جو بدعنوانی کا واضح ثبوت ہے، پرانے ٹراما سینٹر کو بند کرنا اور عوام کو دستیاب سہولیات میں کمی کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور عوام دشمن اقدام ہے حکومت کو چاہیے تھا کہ مزید ٹراما سینٹرز قائم کیے جاتے نہ کہ موجودہ سہولیات کو ختم کیا جاتا۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن بلوچستان، بطور ایک ذمہ دار اسٹیک ہولڈر، واضح طور پر اعلان کرتی ہے کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر تمام منتخب امیدواروں کی فہرستیں اور پروکیورمنٹ کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش نہ کی گئیں تو ہم قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہی، جس میں عدالت سے رجوع اور سڑکوں پر احتجاج شامل ہوگا۔ترجمان نے کہا کہ ہم بہت جلد ایک پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کے سامنے تمام حقائق رکھیں گے جن میں جعلی ڈگریوں کے ذریعے بھرتیاں، میرٹ کی پامالی، اور ٹراما سینٹر میں ہونے والی مالی بے ضابطگیاں شامل ہوں گی۔ترجمان نے کہا کہآخر میں پی ایم اے ایم ڈی ٹراما سینٹر اور سیکرٹری ہیلتھ کو واضح پیغام دیتی ہے کہ وہ فوری طور پر شفافیت کو یقینی بنائیں اور عوام کو جوابدہ ہوں، بصورت دیگر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن بلوچستان ہر سطح پر اس معاملے کو بھرپور انداز میں اٹھائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں