جمعیت علماء اسلام کی جیتی ہوئی نشستیں ڈھٹائی کے ساتھ مخالفین کے حوالے کی گئیں،ضلعی امیرکااجلاس سے خطاب
کوئٹہ(این این آئی) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کی ضلعی مجلس عمومی کا اہم اجلاس ضلعی امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق کی زیر صدارت جامعہ مطلع العلوم بروری روڈ کوئٹہ میں منعقد ہوا۔اجلاس میں حاجی عین اللہ شمس، مولانا خورشید احمد، مفتی محمد روزی خان، شیخ الحدیث مولانا حافظ حسین احمد شرودی، حاجی بشیر احمد کاکڑ، مولانا محب اللہ، مولانا محمد ایوب ایوبی، حافظ مسعوداحمد، مفتی سیف الرحمن شیخ مولانا عبد الاحد، حاجی عبد العزیز خان خلجی ایڈووکیٹ، حافظ خلیل احمد سارنگزئی، حافظ رشید احمد حافظ شبیر احمد مدنی سید عبدالواحد آغا حاجی قاسم خلجی حاجی ولی محمد بڑیچ رحیم الدین ایڈووکیٹ، عبدالباری شہزاد مولانا جمال الدین حقانی، سالار مولانا علی جان، مولوی سعد اللہ آغا سمیت اراکین مجلس عمومی نے کثیر تعداد نے شرکت کی اجلاس کے دوران جماعت کی گزشتہ ششماہی تنظیمی رپورٹ حاجی رحمت اللہ کاکڑ نے پیش کی جبکہ شعبہ مالیات کی رپورٹ سیکرٹری مالیات حاجی صالح محمد نورزئی شعبہ اطلاعات کی رپورٹ ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات عبدالصمد حقیار اور شعبہ انصارالاسلام کی رپورٹ سالار مولوی علی جان نے پیش کی۔ رپورٹس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں اراکینِ مجلسِ عمومی نے جماعتی امور، تنظیمی استحکام اور عوامی مسائل پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ شرکاء نے شہر میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال چوری و ڈکیتی کی بڑھتی وارداتوں شہریوں کی شہادت اور زخمی ہونے کے افسوسناک واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ انتظامیہ کوئٹہ کے بنیادی مسائل کے حل میں دانستہ غفلت اور مجرمانہ کوتاہی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔تنظیمی امور کے حوالے سے اراکینِ عمومی کی آراء کی روشنی میں فیصلہ کیا گیا کہ مجلسِ عاملہ کے آئندہ اجلاس میں اہم فیصلے کرکے تمام یونٹوں کو آگاہ کیا جائے گا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے سیاسی نابالغ ٹولے کو اقتدار پر مسلط کرکے عوامی مسائل میں مزید اضافہ کیا گیا۔ جمعیت علماء اسلام کی جیتی ہوئی نشستیں ڈھٹائی کے ساتھ مخالفین کے حوالے کی گئیں اور عوام کے حقِ رائے دہی پر دن دیہاڑے ڈاکہ ڈالا گیا۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے عوام دربدر کی ٹھوکریں کھا کھا کر نڈھال ہوچکے ہیں شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ حکمران خوابِ غفلت میں مبتلا ہیں۔ جمعیت علماء اسلام عوام کے حقوق کا مقدمہ بھرپور قوت استقامت اور جراتمندانہ انداز میں لڑتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ اتحاد و اتفاق کی مضبوط زنجیر میں بندھ کر جماعت کو مزید فعال منظم اور متحرک بنایا جائے گا۔ نظم و ضبط کی پابندی اور بالائی جماعت کے فیصلوں کی پاسداری ہر کارکن کی اولین ذمہ داری ہے۔ جمعیت علماء اسلام اکابر و اسلاف کا وہ حسین گلشن ہے جس کی آبیاری انہوں نے اپنے مقدس لہو سے کی اس کے تحفظ استحکام اور فروغ کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔

