خاران(رپورٹ محمدعیسی محمدحسنی) بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلی پر ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں حکومت بلوچستان اور بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے اشتراک سے رائیز RISE پروجیکٹ کے زیر اہتمام بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر اسیمینار منعقد کیا گیا سیمینار کا مقصد موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کو اجاگر کرنا اور مقامی سطح پر ان کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر زور دینا تھا۔سیمینار میں مقامی عمائدین، کونسلران,نوجوانوں، کمیونٹی ممبران اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی سیاسی و قبائلی رہنما حاجی میر عبد الکریم ریکی نے اپنے خطاب میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث مشکیل اور ضلع واشک میں پیدا ہونے والے مسائل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے حکومت بلوچستان اور بی آر ایس پی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پانی کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے بارشوں کے غیر متوقع نظام نے زراعت اور لائیو اسٹاک کو متاثر کیا ہےخشک سالی میں اضافہ مقامی آبادی کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے درخت لگانا اور پانی کے تحفظ کے اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ نوجوانوں کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے متحرک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومتی اداروں اور ترقیاتی تنظیموں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے حکومت بلوچستان اور بی آر ایس پی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ رائیز RISE پروجیکٹ مقامی کمیونٹی کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ گورنمنٹ ہائی سکول زاوگ ماشکیل کے پرنسپل حاجی عطاء اللہ محمدحسنی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی نے مقامی لوگوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے پانی کی کمی، زراعت میں آگہی کی کمی، اور روزگار کے مسائل کا ذکر کیا۔ انہوں نے حکومت بلوچستان اور بی آر ایس پی کی جانب سے اس اہم موضوع پر سیمینار کے انعقاد کو سراہا اور کمیونٹی سے ماحول دوست اقدامات اپنانے کی اپیل کی۔ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر بی آر ایس پی رائیز پروجیکٹ حبیب ملنگزئی نے موسمیاتی تبدیلی کی اہمیت اور اس کی وجوہات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں جنگلات کی کٹائی پانی کے وسائل کا غیر مؤثر استعمال درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ غیر پائیدار زرعی طریقےماحولیاتی آگاہی کی کمی ہے انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے شجرکاری، پانی کے تحفظ، اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، ماحول کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں کے عزم کا اظہار کیا۔ پروگرام میں دیگر مقررین نے بھی منعقدہ سیمینار کے توسط سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر روشنی ڈالی.
پروگرام کے آخر میں شجرکاری بھی کی گئی

