لاپتہ بلوچ بیٹیاں

عزیز سنگھور

بلوچستان اور کراچی میں حالیہ دنوں پیش آنے والے واقعات ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو سامنے لا رہے ہیں کہ جبری گمشدگیوں کا دائرہ اب مردوں سے آگے بڑھ کر خواتین اور طالبات تک پھیل چکا ہے۔ یہ عمل بلوچ سماجی روایات کی اس سرخ لکیر کو عبور کر رہا ہے جس میں عورت اور بچے کو ہمیشہ جنگ اور تنازع سے مستثنیٰ سمجھا جاتا رہا ہے۔
منگل کی شب کوئٹہ میں واقع بولان میڈیکل کالج کے گرلز ہاسٹل پر چھاپے کی خبر نے طالبات اور ان کے اہلِ خانہ میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق خدیجہ بلوچ نامی ایک طالبہ، جو بی ایس نرسنگ کے ساتویں سمسٹر کی طالبہ ہیں اور ضلع کیچ کے علاقے ہیرونک سے تعلق رکھتی ہیں، کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد گرلز ہاسٹل میں مقیم بلوچ طالبات نے احتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ انہیں بلوچ شناخت کی بنیاد پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ کسی ایک رات یا ایک شہر تک محدود نہیں رہا۔ اسی روز شام کے وقت کراچی کے ساحلی علاقے ہاکس بے کے نزدیک عبدالرحمان گوٹھ (بلیجی) میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی آرگنائزر فوزیہ شاشانی کے بھائی داد بلوچ کو ان کے گھر سے دوبارہ حراست میں لے کر لاپتہ کرنے کی اطلاع سامنے آئی۔ اہلِ خانہ کے مطابق جب فوزیہ بلوچ نے ایف آئی آر اور قانونی دستاویزات کا مطالبہ کیا تو انہیں دھمکایا گیا اور بغیر کسی وارنٹ کے ان کے بھائی کو اپنے ساتھ لے جایا گیا۔
اسی طرح 16 اپریل 2026 کی شب کراچی کے علاقے نیول میں ضلع آواران سے تعلق رکھنے والی حسینہ بلوچ کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ یہ واقعات اس سوال کو مزید گہرا کرتے ہیں کہ اگر کسی فرد پر کوئی الزام ہے تو قانون کے مطابق اسے عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا جاتا؟ کیوں ایسے افراد کو اندھیروں میں غائب کر دیا جاتا ہے اور خاندانوں کو بے یقینی اور خوف کی کیفیت میں چھوڑ دیا جاتا ہے؟
یہ سلسلہ اس سے قبل بھی کئی بار سامنے آ چکا ہے۔ 8 اپریل کو کراچی کے علاقے شرافی گوٹھ میں ایک بلوچ خاتون سمیت 9 افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان افراد میں شکیلہ زوجہ نصیر، عمران ولد فیض، عدنان ولد فیض، رضوان ولد فیض، صابر ولد فیض، نصیر ولد خیر محمد، وسیم ولد خیر محمد، سلمان ولد شریف اور شہزاد ولد جامل شامل تھے۔ ان واقعات نے مقامی آبادی میں خوف اور بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
خواتین کی جبری گمشدگیوں کا یہ رجحان کوئی نیا نہیں۔ 29 مئی 2025 کی رات تقریباً تین بجے سول اسپتال کوئٹہ سے 24 سالہ طالبہ ماہ جبین بلوچ کو مبینہ طور پر حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔ ماہ جبین کا تعلق بسیمہ سے تھا اور وہ بلوچستان یونیورسٹی میں لائبریری سائنس کی طالبہ تھیں۔ اس واقعے نے نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ انسانی حقوق کے کارکنوں کو بھی شدید تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔
بلوچ سماج کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی روایتی اقدار ہیں۔ اس معاشرے میں عزت، غیرت، مزاحمت اور اجتماعیت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ان اصولوں میں ایک اہم شق یہ بھی رہی ہے کہ خواتین اور بچے تنازعات سے محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ قبائلی جھگڑوں اور دشمنیوں میں بھی خواتین کو “امان” حاصل ہوتی رہی ہے۔ یہ ایک ایسی اخلاقی لکیر رہی ہے جسے عبور کرنا نہ صرف غیر روایتی بلکہ ناقابل معافی جرم تصور کیا جاتا ہے۔
لیکن حالیہ واقعات اس روایت کو چیلنج کرتے نظر آتے ہیں۔ 22 نومبر 2025 کی رات حب چوکی کے علاقے دارو ہوٹل میں قائم ایک گھر پر چھاپے کے دوران 15 سالہ نسرین دختر دلئور بلوچ کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ ایک کم عمر بچی کا اس طرح حراست میں لیا جانا ایک ایسا سوال کھڑا کرتا ہے جس کا جواب صرف قانونی دلیلوں سے نہیں دیا جا سکتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک ریاست اپنے ہی شہریوں کی بچیوں سے خوف محسوس کرنے لگی ہے؟
اسی طرح 20 دسمبر 2025 کی علی الصبح حب چوکی کے گنجی گوٹھ کے ایک گھر سے ایک ہی خاندان کی دو خواتین، حیرنسا واحد اور حانی بلوچ، کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں عوامی دباؤ کے باعث حانی بلوچ کو رہا کر دیا گیا، مگر حیرنسا واحد تاحال لاپتہ بتائی جاتی ہیں۔ حانی بلوچ ایک گھریلو خاتون تھیں اور ان کی دو کمسن بیٹیاں ہیں، جن میں بڑی بیٹی کی عمر صرف پانچ سال بتائی جاتی ہے۔ اس واقعے نے خاندانوں کے اندر خوف اور عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کیا۔
کراچی کے علاقے لیاری میں بھی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ 28 فروری کو علی محمد محلہ، کلری میں ایک بلوچ طالبہ عائشہ دختر لال جان اور ایک نوجوان داؤد ولد ابراہیم کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ دونوں کا تعلق مکران سے بتایا گیا اور وہ کراچی میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ مقیم تھے۔
خواتین کی جبری گمشدگیاں ایک سماجی بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ جب ایک ماں، بہن یا بیٹی کو رات کی تاریکی میں گھر یا ہاسٹل سے اٹھایا جاتا ہے تو اس کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے خاندان اور معاشرے پر پڑتا ہے۔ بچے اپنی ماؤں کے انتظار میں دروازوں پر نظریں جمائے بیٹھے رہتے ہیں، جبکہ والدین ہر آہٹ پر چونک اٹھتے ہیں۔
حسینہ، خدیجہ، ماہ جبین، نسرین اور دیگر خواتین کے واقعات ایک بار پھر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر کب تک رات کی تاریکی میں ایسے واقعات جنم لیتے رہیں گے؟ کب خاندانوں کو اپنے پیاروں کی واپسی کے انتظار میں دروازوں پر نظریں جمائے رکھنا پڑے گا؟ اور کب قانون کی حکمرانی واقعی اس سرزمین پر اپنی موجودگی کا احساس دلائے گی؟

اپنا تبصرہ بھیجیں