خاران(رپورٹ محمدعیسی محمدحسنی )بلوچستان حکومت اور بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے زیرِ اہتمام ضلع واشک کے تحصیل بسیمہ میں میں رائیز پروجیکٹ کے تحت روایتی کھانوں کی ایک شاندار نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کا مقصد بلوچستان کی ثقافت، مقامی روایتی کھانوں اور خواتین و مقامی کاروباری افراد کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا تھا۔نمائش میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد، مقامی عمائدین، نوجوانوں، خواتین اور کمیونٹی ممبران نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب میں روایتی کھانوں کے مختلف اسٹالز لگائے گئے جہاں شرکاء نے بلوچستان کے ثقافتی اور روایتی ذائقوں سے لطف اندوز ہوئے۔تقریب سے بی آر ایس پی رائیز پروجیکٹ کے سینئر منیجر سردار عبداللہ بادینی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کا ہم شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس طرح کے پروگرام کا انعقاد کیا. مزید کہا کہ روایتی کھانے ہماری ثقافت اور شناخت کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات نہ صرف ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں بلکہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کرنے کا بھی ذریعہ بنتی ہیں۔ بی آر ایس پی رائیز پروجیکٹ ضلع واشک کے کوآرڈینیٹر حبیب ملنگزی نے اپنے خطاب میں حکومت بلوچستان کے اس طرح کے پروگرام کا انعقاد خوش آئند قرار دے کر کہا کہ روایتی کھانوں کی نمائش مقامی ہنر اور ثقافت کو فروغ دینے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان نسل کو اپنی روایات اور ثقافتی اقدار سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بسیمہ کے سیاسی و سماجی راہنما بالاچ خان رودینی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے روایتی کھانے نہ صرف ذائقے میں منفرد ہیں بلکہ ہماری تہذیب اور تاریخ کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس قسم کی سرگرمیوں کو ثقافتی ہم آہنگی اور سماجی روابط کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔ سیاسی و سماجی رہنما انجینئر سیف الرحمان عیسی زئی نے اپنے خطاب میں منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تقریبات مقامی سطح پر خواتین اور نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔تقریب کے اختتام پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پانچ مختلف اسٹالز کے منتظمین میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ شرکاء نے اس حکومت بلوچستان اور بی آر ایس پی کے اس کامیاب تقریب کو سراہتے ہوئے مستقبل میں بھی اس طرح کی ثقافتی اور روایتی سرگرمیوں کے انعقاد کی خواہش کا اظہار کیا۔

