نظام شمسی کے اختتام پر موجود فلکیاتی جسم کا زمین جیسا ماحول دریافت

نظامِ شمسی کے انتہائی سرد اور پراسرار بیرونی حصے میں ایک غیرمعمولی دریافت نے فلکیات کی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ماہرینِ فلکیات نے نیپچون سے بھی آگے موجود ایک برفانی جسم پر ایسی فضا کے شواہد دریافت کیے ہیں جو اب تک صرف پلوٹو جیسے بڑے اجسام تک محدود سمجھی جاتی تھی۔ اس حیران کن انکشاف نے نظامِ شمسی کے آخری کناروں سے متعلق کئی پرانے تصورات بدل دیے ہیں۔

سائنسی جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع تحقیق کے مطابق (612533) 2002 XV93 نامی یہ خلائی جسم کوائپر بیلٹ میں واقع ہے اور اسے ٹرانس نیپچونین آبجیکٹ قرار دیا جاتا ہے۔ تقریباً 500 کلومیٹر قطر رکھنے والا یہ جسم حجم میں پلوٹو سے کہیں چھوٹا ہے، مگر اس کے گرد موجود نہایت باریک فضا نے سائنسدانوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس فضا میں میتھین، نائٹروجن یا کاربن مونو آکسائیڈ جیسی گیسیں شامل ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اتنے چھوٹے اور شدید سرد ماحول والے جسم پر فضا کا برقرار رہنا غیر متوقع ہے، کیونکہ اس سے پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ ایسی خصوصیت صرف نسبتاً بڑے اجسام میں ممکن ہے۔ ماہر فلکیات کواریماٹسو کے مطابق یہ دریافت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیرونی نظامِ شمسی کے برفانی اجسام پہلے سے کہیں زیادہ متحرک اور پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

سائنسدانوں نے اس فضا کی ممکنہ وجوہات میں دو امکانات پیش کیے ہیں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ جسم کے اندرونی حصے سے گیسوں کا اخراج ہو رہا ہے، ممکنہ طور پر برفانی آتش فشانی عمل کے ذریعے، جبکہ دوسرا امکان کسی خلائی تصادم کے نتیجے میں عارضی گیسوں کے اخراج کا ہے۔ اگر فضا مستقل رہی تو یہ اندرونی سرگرمی کا مضبوط ثبوت ہو سکتا ہے۔

اس تحقیق کے لیے جاپانی زمینی دوربینوں کی مدد سے ایک خاص تکنیک استعمال کی گئی، جس میں اس جسم کو ایک دور دراز ستارے کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ستارے کی روشنی میں تبدیلیوں کے ذریعے اس کے گرد موجود ماحول کا اندازہ لگایا گیا۔

یہ برفانی دنیا سورج سے تقریباً 5.5 ارب کلومیٹر دور واقع ہے اور ایک مدار مکمل کرنے میں اسے 247 سال لگتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ جسم نظامِ شمسی کی ابتدائی تشکیل کے دور کا باقی ماندہ حصہ ہے، جس کی ساخت میں برف، چٹانیں اور نامیاتی مادے شامل ہو سکتے ہیں۔

اس نئی دریافت نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کائنات کے دور افتادہ گوشوں میں کتنے ایسے راز پوشیدہ ہیں جو ہماری موجودہ سائنسی سمجھ سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ خاموش برفانی دنیا میں فضا کی یہ موجودگی دراصل فلکیات کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں