امیر حمزہ
اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے بارہ مہینوں میں سے ایک مہینہ پاکستان کیلئے ٹرننگ پوائنٹ کی حیثیت کا حامل ہے۔ یہ پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مئی کا مہینہ ہے۔ آج آٹھ مئی ہے۔ مئی کے پہلے دس دن ہم اہلِ پاکستان کیلئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے دن ہیں۔ یہ دو مئی 2026ء کے روز‘ فجر کا وقت تھا‘ خواب دیکھتا ہوں کہ آسمان کے وسط میں ایک سفید بادل ہے‘ اس بادل کو سورج کی شعائیں کہیں کہیں سے سنہری رنگ دیے ہوئے ہیں۔ میں نے قرآن مجید کی ”سورۃ النور‘‘ کو کھولا کہ جہاں بادلوں کا ذکر ہے۔ آیت: 40 میں انتہائی گہرے سمندر کی بات ہے۔ گہرے اندھیرے ہیں‘ موج پر موج ہے۔ پھر ان پر بادلوں کی موجودگی کا تذکرہ ہے۔ اب میں سوچوں میں پڑ گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی آخری کتاب کے قاری کو سمندر کی گہرائیوں سے اٹھا کر بلند وبالا بادلوں تک لے گئے ہیں تو پیغام یہ ہے کہ سمندر کی سطح سے بادل تک موجوں کا وجود ہے۔ خواب میں بھی اشارہ اسی جانب ہے۔ لہٰذا ان موجوں کی تلاش ضروری تھی۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ ہر صاحبِ علم اور صاحبِ عقل کو مخاطب کرکے پوچھتے ہیں: کیا تم لوگ دیکھتے نہیں ہو کہ آسمانوں اور زمین میں موجود مخلوق اللہ ہی کی تسبیح (سبحان اللہ کا ورد) کرتی ہے اور پَر پھیلائے ہوئے طائر (پرندے) بھی تسبیح کر رہے ہیں‘‘۔
قارئین کرام! مندرجہ بالا آیت میں ”طیر‘‘ کا لفظ آیا ہے‘ اس کا معنی اڑنے والا یعنی پرندہ ہے۔ عربی زبان میں واحد بول کر جمع بھی مراد لیا جاتا ہے؛ چنانچہ اس کا معنی پرندے بھی کیا گیا ہے۔ ان پرندوں کی صفت کا لفظ ”صافات‘‘ آیا ہے‘ یعنی وہ پَر پھیلائے ہوئے‘ صفیں بنائے ہوئے ہیں۔ یہ سب درست ہے مگر مجھ جیسا طالبعلم یہ تحقیق کرنے بیٹھ گیا کہ اس آیت میں ”والطیر صٰٓفّٰتٍ‘‘ سے مراد کون سا پرندہ ہے جو مندرجہ بالا آیت پر سو فیصد پورا اترتا ہو۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ پرندہ Fregata minor ہے‘ یعنی ‘چھوٹا سا بحری جنگی جہاز‘۔ یہ اپنی زندگی سمندر کی لہروں اور آسمان کے بادلوں میں گزارتا ہے۔ اس کے دونوں پَر ڈھائی میٹر تک لمبے ہوتے ہیں‘ یعنی تقریباً آٹھ فٹ لمبائی کے حامل ہیں۔ جسم کے مقابلے میں اس کے پروں کا یہ پھیلاؤ بہت زیادہ ہے۔ اس کا وزن ڈیڑھ کلوگرام کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ اس کی ہڈیوں کا ڈھانچہ وزن کے مقابلے میں صرف پانچ فیصد ہے۔ یہ ہفتوں تک سمندر کی لہروں پر محو پرواز رہتا ہے۔ بعض اوقات کئی مہینے بغیر رکے پرواز کرتا ہے۔ یہ ہوا ہی میں سٹاپ کر کے اپنی انرجی پوری کر لیتا ہے۔ اس کے دماغ کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک حصہ سوتا ہے تو دوسرا جاگتا ہے۔ سوئے ہوئے دماغ کی جانب والی آنکھ بند ہوتی ہے تو جاگنے والے دماغ کی آنکھ کھلی ہوتی ہے مگر 24 گھنٹوں میں یہ صرف 42 منٹ ہی سوتا ہے۔ قارئین کرام! جب یہ پرندہ آسمان کی جانب سفر کرتا ہے تو اُس نم دار ہوا کے ساتھ سفر کرتا ہے جو سورج کی تپش سے اوپر اٹھتی ہے۔ یوں سمجھیے کہ کثافت میں سے لطافت اوپر کو اٹھتی ہے تو یہ پرندہ لطیف ہوا کے دوش پر اوپر کو جاتا ہے۔ یہ ہوا جو قدرے گرم ہوتی ہے‘ شفاف اور میٹھے پانی کی ننھی بوندوں کو اٹھائے ہوتی ہے۔ لہروں کے ستون بنائے ہوئے جب یہ بلندی پر پہنچتی ہے تو یہاں یہ ہوا کی لہریں ٹھنڈی ہو کر بادلوں کی شکل اختیار کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ یہ انتہائی تیز اور طوفانی سفر طے کرکے یہاں پہنچی ہیں۔ 3000 ہزار میٹر سے 4000 میٹر تک۔ اب ایسے بادلوں کا جہان ہے جو سفید ہے‘ شفاف ہے۔ یہ باہم ملے ہوئے‘ پھول گوبھی کی شکل اختیار کئے ہوتے ہیں۔ سورج کی روشنی جب انکے اندر گھستی ہے تو یہ سرخ اور گلابی رنگ بنا لیتے ہیں۔ ساتھ ساتھ سفید رنگ بھی چلتا ہے۔ یوں ایک رنگوں بھرا ملائم‘ نرم اور آلودگیوں سے پاک جہان ہے جس میں یہ سمندری پرندہ گول دائرے میں پرواز کرتا رہتا ہے۔
Frigatebirds are the only birds known to intentionally enter and fly inside clouds.
جی ہاں! یہ واحد پرندہ ہے جو قصداً بادلوں میں گھستا ہے اور پھر ان کے اندر دائرے میں پرواز شروع کر دیتا ہے۔ یہ بادل اس کے بعد چھ ہزار اور پھر سات ہزار میٹر بلندی پر چلے جاتے ہیں اور مزید شفاف ہوتے چلے جاتے ہیں۔
لوگو! اب آیت: 41 کا آخری حصہ ملاحظہ کریں‘ ترجمہ ہے کہ ”ہر ایک نے اپنی نماز اور اپنی تسبیح (سبحان اللہ کہنے کا طریقہ) معلوم کر لیا ہے‘‘۔ آیت: 42 میں فرمایا ”آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کے لیے ہے۔ اللہ ہی کی جانب واپسی ہو کر رہے گی‘‘۔ جی ہاں! واپسی کا روٹ تو یہی ہے جبکہ جو قبضہ مافیا‘ کرپٹ اور حقوقِ انسانی کو ہڑپ کرنے والا ہے‘ ایسا کثیف اور آلودہ انسان بھلا اس روٹ پر کیسے چل پائے گا؟ کون اسے یہاں سے گزرنے دے گا؟ کعبہ کو جانے کا مال اگر حرام ہے تو عمرہ اور حج کی قبولیت تو در کنار‘ یہ سب کچھ وبالِ جان بن جائے گا۔ سمندری پرندہ نورانی بادلوں میں چکر لگا رہا ہے تو گویا وہ طواف کر رہا ہے‘ وہ اللہ کی عبادت کر رہا ہے۔ آیت: 43 میں اللہ تعالیٰ انہی بادلوں کا تذکرہ فرماتے ہیں۔ یہ ہے ”سورۂ نور‘‘ کی روشنی۔ کاش! ہم سب کو میسر ہو جائے۔
صحابیِ رسول حضرت حنظلہؓ اُحد کی جنگ میں شہید ہوئے۔ ان پر غسل واجب تھا تو اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: انہیں بادلوں میں فرشتوں نے غسل دیا ہے جی ہاں! حضرت حنظلہؓ کو اللہ کے فرشتے انہی بادلوں میں لے کر گئے تھے جہاں سنہرے رنگ بنتے ہیں۔ ہمارے لیے نمونہ وہی ہیں جو ہمارے حضورﷺ کے جانباز اور اطاعت گزار تھے۔
آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ اس دور کا آغاز 1945ء میں دوسری عالمی جنگ کے خاتمے سے ہوا تھا۔ انسانیت کی بربادی سے ہوا تھا۔ ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرانے سے ہوا تھا۔ ٹھیک 80 سال بعد پاکستان پر بھارت نے رات کے اندھیرے میں حملہ کیا تو پاکستان نے جارحیت کے جواب میں ایٹم کی طاقت کو زبان تو درکنار‘ دماغ کی سوچ میں بھی نہیں آنے دیا۔ پاکستان نے جدید ترین الیکٹرانک صلاحیت کو استعمال کیا۔ انڈیا کی فضائوں پر قبضہ کر لیا۔ ان کا بارڈر کراس کیے بغیر ان کے ہوائی جہازوں کو انہی کی زمین پر لاک کیا اور اسی طرح لاک کیا جس طرح شاہین اپنے شکار کو لاک کرتا اور پھر اس پر جھپٹتا ہے تو اسے دبوچ لیتا ہے۔ الیکٹرانک شاہینوں نے میزائل داغا تو اپنی زمین سے داغا۔ انڈیا کے آٹھ جہاز گرا دیے۔ ان کی اہم تنصیبات تباہ کر دیں۔ اب ان کی فضائیہ ڈھیر ہو چکی تھی۔ صدر ٹرمپ کو اس جنگ کا علم تھا۔ طے یہ ہوا تھا کہ انڈیا جب پاکستان کو دبوچ لے گا تو امریکہ صلح صفائی کروا کر انڈیا کو تھانیدار بنا دے گا کیونکہ چین کے خلاف امریکہ اور یورپ اسے کھڑا کر رہے تھے مگر وہ تو امن کی بھیک مانگ رہا تھا۔
جی ہاں! پاکستان کے شیر اپنے سامنے شہادت کا وہ روٹ رکھتے ہیں جو حضرت حنظلہؓ کا روٹ تھا۔ حضرت حنظلہؓ کی پاک روح فردوس میں تھی‘ ان کی اہلیہ نے بتا دیا تھا کہ جب حنظلہؓ میرے پاس سے اٹھ کر میدانِ جہاد میں گئے تو میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ بادلوں سے پار آسمان کا دروازہ کھلا اور جونہی حنظلہؓ اس میں داخل ہوئے تو دروازہ بند ہو گیا۔ میں سمجھ گئی کہ ان کی شہادت پکی ہے۔ جسم بادلوں میں دُھل کر آیا‘ وہ آج طیبہ کی منور سرزمین میں مہک رہا ہے۔ لوگو! پاکستان چاہتا تو بھارت کو کئی گنا زیادہ نقصان پہنچا سکتا تھا مگر ایٹمی پاکستان نے ایٹمی انڈیا کو امن کا موقع دیا۔ ایٹمی دور میں پاکستان نے کمال کردار ادا کیا۔ اسی کردار کی وجہ سے صلح کے فیصلے اسلام آباد کی سرزمین کا مقدر بنے ہیں۔ پاکستان کا بحری جہاز جس کا نام پی ایم ایس اے کشمیر ہے‘ اس نے بحیرہ عرب میں بھارت کے ایک بحری جہاز کو ریسکیو کیا ہے۔ میرے پاک وطن کا پیغام یہی ہے کہ عالمی امن بنیانٌ مرصوص کی سرزمین اسلام آباد کے ساتھ وابستہ ہے۔ فیلڈ مارشل صاحب کے ساتھ وابستہ ہے جس میں سب کی بھلائی کا دانشمندانہ گلدستہ ہے۔
Load/Hide Comments

