وزیراعظم کا دورہ چین؛ ایم او یوز پر دستخط، سی پیک، دیگر شعبوں میں اشتراک کے فروغ پر تبادلہ خیال

وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے دوران ژجیانگ صوبے میں مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط ہوئے اور صوبائی قیادت سےملاقات کے دوران صوبائی سطح پر تعاون، پاک-چین اقتصادی راہداری(سی پیک) فیز ٹو اور دیگر شعبوں میں اشتراک کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے شہر بانگڑو میں بزنس فورم میں شرکت کی جہاں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا ژجیانگ صوبائی کمیٹی کے پارٹی سیکریٹری مسٹر وانگ ہاؤ نے ان کو خوش آمدید کہا۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی سطح پر تعاون پاک-چین تعلقات کا ایک اہم ستون ہے، جو صنعتی تعاون، زرعی جدیدکاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور برآمدات پر مبنی ترقی کے ذریعے سی پیک فیز ٹو کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

وزیراعظم نے ژجیانگ صوبے کی شان دار ترقیاتی منصوبہ بندی کو سراہتے ہوئے صدر شی جن پنگ کی دور اندیش قیادت کی تعریف کی، جو انہوں نے ژجیانگ صوبائی کمیٹی کے پارٹی سیکریٹری کی حیثیت سے انجام دی، وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے پیش کردہ “صاف پانی اور سرسبز پہاڑ انمول اثاثے ہیں” کے تصور کو خصوصی طور پر سراہا۔

شہباز شریف نے کہا کہ ژجیانگ کی ترقی اس بات کی عملی مثال ہے کہ ماحولیاتی تحفظ، سبز ترقی اور اعلیٰ معیار کی معاشی نمو کو ایک ساتھ کس طرح آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ژجیانگ صوبے کے ساتھ بالخصوص ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن، زراعت، قابل تجدید توانائی، جدید صنعت کاری اور مہارتوں کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

اس دوران وزیراعظم نے تعاون سے متعلق دو اہم دستاویزات پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی، پہلی مفاہمتی یادداشت ژجیانگ صوبے اور پنجاب کے درمیان سسٹر-پروونس تعلقات کے قیام سے متعلق تھی، جس کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تعلیم، ثقافت، سیاحت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں