بجٹ میں اگر تاجروں کے مطالبات اور سفارشات کو شامل نہ کیا گیا تو احتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جائیگا،کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری

کوئٹہ (این این آئی) کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد ایوب مریانی نے وفاقی بجٹ میں کاروباری برادری کی تجاویز کو نظر انداز کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تاجروں کے مطالبات اور سفارشات کو شامل نہ کیا گیا تو احتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔جمعہ کو کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پریس کانفرنس سے کرتے ہوئے محمد ایوب مریانی نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں چیمبر آف کامرس کی ایک بھی تجویز شامل نہیں کی گئی، حالانکہ ان تجاویز کا مقصد منصفانہ، ترقی پسند اور کاروبار دوست ٹیکس نظام کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں پر پانچ ملین روپے سے زائد منافع پر نارمل ٹیکس نظام کا خاتمہ کرکے اسے فائنل ٹیکس رجیم کے تحت لایا جائے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو اور بینکاری شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کرایہ کی آمدن کو فائنل ٹیکس قرار دیا جائے، حال ہی میں نافذ کیے گئے ونڈ فائنل ٹیکس کو ختم کیا جائے اور ٹرن اوور ٹیکس کو کم کرکے 0.25 فیصد تک لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئلے پر سیلز ٹیکس ودہولڈنگ کی شرح 20 فیصد مقرر کی جائے جبکہ گرین فیلڈ سرمایہ کاری کے لیے مراعات میں اضافہ کیا جائے۔صدر چیمبر نے کہا کہ کم سے کم ٹیکس رجیم کو اختیاری یا فائنل ٹیکس رجیم میں منتقل کیا جائے، کوئٹہ میں اے ٹی آئی آر بینچ قائم کیا جائے کیونکہ ٹیکس اپیلوں کے لیے مقامی سطح پر بینچ نہ ہونے سے تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم کو ایک سال کے لیے اختیاری قرار دینے اور اس کے مرحلہ وار نفاذ کا مطالبہ بھی کیا۔محمد ایوب مریانی نے کہا کہ ایف بی آر افسران کی کارکردگی کو اپیلوں کے نتائج سے منسلک کیا جائے تاکہ غلط اسسمنٹ کی حوصلہ شکنی اور احتساب کو فروغ ملے۔ انہوں نے زیر التوا ریفنڈز کی فوری ادائیگی، بلڈرز اور ڈویلپرز کے لیے مراعات، سپر ٹیکس سیکشن 4C کے خاتمے اور زیادہ سے زیادہ ٹیکس شرح کو 45 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ آر ٹی اوز کے چھاپوں کے اختیارات محدود کیے جائیں جبکہ ایران اور افغانستان سے درآمد ہونے والی اشیاء پر عائد ڈیوٹیز اور ٹیکسوں میں 30 سے 40 فیصد تک کمی کی جائے۔ انہوں نے ایران کے ساتھ تجارت کے لیے ای ایف ایس کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بینکنگ چینلز کی عدم دستیابی کے باعث تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے ٹرانسمیشن لائنوں کو اپ گریڈ کیا جائے اور کوئٹہ، خضدار اور لورالائی میں پاور پلانٹس قائم کیے جائیں۔ انہوں نے صوبے میں موٹروے انفراسٹرکچر کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے ڈی آئی خان۔ژوب۔کوئٹہ موٹروے، سکھر۔سبی۔کوئٹہ شاہراہ اور چمن ہائی وے کی اپ گریڈیشن کا مطالبہ بھی کیا۔محمد ایوب مریانی نے کوئٹہ۔کراچی شاہراہ پر جاری تعمیراتی کام کو غیر معیاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وفاقی حکومت کاروباری برادری کی تجاویز پر غور کرے گی کیونکہ ان پر عملدرآمد سے کاروباری اعتماد میں اضافہ، معیشت کی بہتری اور ٹیکس نظام میں شفافیت کو فروغ ملے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں