صوبے کی بارہ سرکاری جامعات کے لیے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم 15 ارب روپے مختص کیے جائیں، اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن

کوئٹہ(این این آئی) اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (ASA) جامعہ بلوچستان کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ 15 جون 2026 بروز سوموار شام 4 بجے پریس کلب کوئٹہ کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا جائے گا۔ اس موقع پر گرینڈ الائنس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا جائے گا۔ترجمان نے کہا کہ احتجاجی مظاہرے کا بنیادی مقصد جامعہ بلوچستان اور صوبے کی دیگر جامعات کو درپیش مالی و انتظامی مسائل کی نشاندہی کرنا اور اساتذہ و ملازمین کے جائز مطالبات کے حق میں آواز بلند کرنا ہے۔بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ 2022 سے ریٹائر ہونے والے اساتذہ، افسران اور ملازمین کو پینشن کمیوٹیشن، گریجویٹی، لیو انکیشمنٹ اور جی پی فنڈ کی فوری ادائیگی کے لیے خصوصی مالی پیکج کا اعلان کیا جائے تاکہ برسوں سے واجب الادا رقوم کی ادائیگی یقینی بنائی جا سکے۔اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ صوبے کی بارہ سرکاری جامعات کے لیے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم 15 ارب روپے مختص کیے جائیں، جبکہ وفاقی حکومت ملک بھر کی جامعات کے جاری اخراجات اور تنخواہوں کی مد میں کم از کم 200 ارب روپے فراہم کرے۔بیان میں جامعہ بلوچستان میں اساتذہ کی تمام منظور شدہ خالی آسامیوں کو فوری طور پر مشتہر کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق کئی اساتذہ گزشتہ بیس سال سے زائد عرصے سے ایک ہی گریڈ میں خدمات انجام دے رہے ہیں، حالانکہ وہ ترقی اور اپ گریڈیشن کے تمام تقاضے پورے کر چکے ہیں۔ اساتذہ کی اپ گریڈیشن سے متعلق پالیسی مجاز اداروں سے منظور شدہ ہے، جس پر عملدرآمد کو جاری رکھا جانا چاہیے۔اسی طرح منظور شدہ یوٹیلٹی الاؤنس، اردلی الاؤنس اور دیگر مراعات کی بحالی، پانچ فیصد مینٹیننس کٹوتی کے خاتمے اور اساتذہ و ملازمین کے مالی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ترجمان نے نشاندہی کی کہ جامعہ بلوچستان کے مین کیمپس اور سب کیمپسز میں اساتذہ اور ملازمین کے لیے مناسب پارکنگ شیڈز موجود نہیں ہیں، لہٰذا فوری طور پر پارکنگ سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ مزید برآں ٹیچر ہاسٹل میں گیس، بجلی، پانی، صفائی ستھرائی اور انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ ان مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے، خصوصاً اس صورتحال میں جب اساتذہ سے ہاسٹل رہائش کی مد میں بھاری فیسیں وصول کی جا رہی ہیں۔بیان میں اساتذہ کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام کو غیر ضروری اور غیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اساتذہ کی کارکردگی کا معیار تدریس، تحقیق اور علمی خدمات ہیں، نہ کہ بائیومیٹرک حاضری۔ لہٰذا اس پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔آخر میں اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے جامعہ بلوچستان کے تمام اساتذہ، افسران اور ملازمین سے اپیل کی کہ وہ 15 جون کے احتجاجی مظاہرے میں بھرپور شرکت کرکے اپنے جائز حقوق کے حصول اور گرینڈ الائنس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں