تربت(این این آئی)سابق رکن قومی اسمبلی میر یعقوب بزنجو نے کہا ہے کہ بلوچستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک نہایت نازک اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں درپیش مسائل کو محض امن و امان کے تناظر میں دیکھنا حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو بے روزگاری، بدعنوانی، سرحدی تجارت میں رکاوٹوں، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم، نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور قومی دھارے سے دوری کے احساس جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جن کے حل کے لیے دوراندیش سیاسی حکمت عملی، مضبوط معاشی منصوبہ بندی اور سماجی انصاف ناگزیر ہے۔اپنے ایک بیان میں میر یعقوب بزنجو نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کا غیرجانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ ان بنیادی وجوہات کو سمجھا جا سکے جو نوجوانوں کو مایوسی اور بے یقینی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ آخر وہ کون سی محرومیاں اور ناانصافیاں ہیں جو بعض نوجوانوں اور خواتین کو ایسے راستوں کی جانب لے جاتی ہیں جو نہ صرف ان کی اپنی زندگی بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان مسائل کا حل نفرت، انتقام اور مزید تقسیم میں نہیں بلکہ انصاف، معیاری تعلیم، باعزت روزگار اور مساوی مواقع کی فراہمی میں مضمر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی بیٹیاں تعلیم حاصل کرکے اپنے خاندانوں، معاشرے اور ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے کا خواب دیکھتی ہیں، جبکہ نوجوان یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد علم، ہنر اور محنت کے ذریعے اپنی زندگی سنوارنے اور قوم کی خدمت کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔میر یعقوب بزنجو نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ سرکاری ملازمتیں ہر نوجوان کو فراہم کرنا ممکن نہیں، اس لیے روزگار کے متبادل اور پائیدار مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے نجی شعبے کے فروغ، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی، مقامی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی اور نوجوانوں کو سی پیک، معدنی وسائل، ساحلی معیشت، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت سے جوڑنے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد مقامی آبادی کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے لیے استعمال کیے جائیں تو صوبے میں مایوسی کی جگہ امید اور محرومی کی جگہ ترقی لے سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں میں آباد ہزاروں خاندانوں کی معاشی زندگی بارڈر ٹریڈ سے وابستہ ہے، لہٰذا ان کے مسائل کو سنجیدگی، تدبر اور ہمدردی کے ساتھ حل کرنا ناگزیر ہے تاکہ انہیں باعزت اور پائیدار روزگار میسر آسکے۔سابق رکن قومی اسمبلی نے بدعنوانی کے خاتمے، شفاف طرز حکمرانی، میرٹ کی بالادستی اور عوامی وسائل کے درست استعمال کو بھی وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عام آدمی کو انصاف، سہولت، تحفظ اور ترقی کا حقیقی احساس نہیں ہوگا، اس وقت تک مسائل کی جڑیں ختم نہیں ہوسکیں گی۔میر یعقوب بزنجو نے بیوروکریسی اور حکمران طبقے پر زور دیا کہ وہ اپنی سوچ اور طرز عمل میں مثبت تبدیلی لائیں اور بلوچستان کے نوجوانوں کو مایوسی کے بجائے امید اور اعتماد کا پیغام دیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ یہ ملک اور ریاست ان کی اپنی ہے اور اس کی ترقی و خوشحالی میں ان کا بھی برابر کا حق اور کردار ہے۔انہوں نے بلوچستان کے تمام قبائلی عمائدین، معتبرین، سرداروں، نوابوں، سیاسی قائدین، دانشوروں، نوجوان نمائندوں اور وفاقی سطح کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ ایک میز پر بیٹھ کر صوبے کے مستقبل کے لیے ایک مشترکہ قومی بیانیہ تشکیل دیں۔ ایسا بیانیہ جو نفرت کے بجائے محبت، تقسیم کے بجائے اتحاد، محرومی کے بجائے شمولیت اور مایوسی کے بجائے امید کا پیغام دے۔میر یعقوب بزنجو نے کہا کہ بلوچستان کی مختلف زبانیں، ثقافتیں اور علاقائی شناختیں اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم سب کی منزل ایک اور اجتماعی قومی شناخت بھی ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی صرف صوبے کی ضرورت نہیں بلکہ پورے پاکستان کے قومی مفاد کا تقاضا ہے۔انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ایک نئی امید، نئے عزم اور نئے قومی شعور کو فروغ دیا جائے، جو نوجوانوں کو علم، تحقیق، ہنر اور روزگار کی طرف راغب کرے اور انہیں ترقی، خوشحالی اور قومی یکجہتی کی راہ دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا روشن مستقبل بندوق سے نہیں بلکہ تعلیم، محبت، انصاف، ترقی اور مساوی مواقع کی فراہمی سے تعمیر ہوگا۔

