صحبت پور ( عطا محمد کھوسہ ) پاکستان پیپلز پارٹی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن سابق امیدوار اور معروف قبائلی و سیاسی شخصیت میر احمد نواز خان کھوسہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہائی افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ جو لوگ ہر مشکل وقت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہے، آج انہیں ہی مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے پارٹی کے لیے قربانیاں دینے والے نظریاتی اور وفادار کارکنوں و رہنماؤں کو دیوار سے لگانا نہ صرف سیاسی ناانصافی ہے بلکہ اس سے کارکنوں کے حوصلے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ ڈھائی سال سے پاکستان پیپلز پارٹی حکومت میں ہونے کے باوجود ہمیں مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے ساتھی، کارکنان اور ووٹرز شدید مایوسی کا شکار ہیں میر احمد نواز خان کھوسہ نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی کو صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک نظریہ سمجھ کر اس کا ساتھ دیا ہے۔ مشکل ترین حالات، سیاسی دباؤ اور نامساعد حالات کے باوجود کبھی پارٹی کا پرچم سرنگوں نہیں ہونے دیا بلکہ ہر میدان میں ڈٹ کر پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے انہوں نے کہا کہ 2018 کے عام انتخابات میں ضلع صحبت پور میں پاکستان پیپلز پارٹی کا کوئی مضبوط امیدوار موجود نہیں تھا۔ ایسے کٹھن حالات میں ہم نے پارٹی قیادت اور کارکنان کو تنہا چھوڑنے کے بجائے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہم نے اپنے وسائل، وقت اور سیاسی حیثیت کو پارٹی کے لیے وقف کیا اور شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نظریے کو عوام تک پہنچانے کے لیے بھرپور جدوجہد کی اس وقت نہ وسائل تھے، نہ حکومتی طاقت اور نہ ہی سیاسی سہولتیں، مگر اس کے باوجود عوام نے ہم پر اعتماد کا اظہار کیا اور ہمیں بھرپور ووٹ دے کر ثابت کیا کہ ضلع صحبت پور کے عوام آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے محبت کرتے ہیں میر احمد نواز خان کھوسہ نے کہا کہ 2024 کے عام انتخابات میں بھی ہم نے ذاتی سیاسی مفادات کو پس پشت ڈال کر پارٹی قیادت کی خواہش، مصالحت اور درخواست پر اپنی نشست کی قربانی دی اور پارٹی امیدوار کی کامیابی کے لیے دن رات بھرپور انتخابی مہم چلائی ہم نے اپنے ساتھیوں، قبائلی معتبرین اور ووٹرز کے ساتھ مل کر پارٹی امیدوار کی کامیابی کو اپنا مشن بنایا کیونکہ ہمارے نزدیک پارٹی کا مفاد ہر ذاتی مفاد سے بالاتر ہے انہوں نے افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، سابق صدر و سابق وفاقی وزیر میر چنگیز خان جمالی اور دیگر اہم پارٹی رہنماؤں کی جانب سے ہمیں مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ سابق وفاقی وزیر میر چنگیز خان جمالی پارٹی کی جانب سے ملنے والے تمام فنڈز اور وسائل صرف اقربا پروری کی بنیاد پر اپنے ہی قریبی لوگوں اور گھرانے تک محدود رکھے ہوئے ہیں جبکہ نظریاتی اور وفادار کارکنوں کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے انہوں نے مزید کہا کہ مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی ایم پی اے غزالہ گولو بھی صرف اپنے خاندان اور قریبی لوگوں تک محدود ہیں جبکہ پارٹی کے حقیقی کارکنان خود کو مکمل طور پر محروم اور نظر انداز محسوس کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ جن کارکنوں نے پارٹی کے لیے دن رات محنت کی، عوام میں پارٹی کا دفاع کیا اور ہر مشکل وقت میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے، آج انہی کارکنوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے جو انتہائی افسوسناک عمل ہے انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہر مشکل وقت میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے، قربانیاں دیتے رہے، کارکنوں کو متحد رکھا اور عوام میں پارٹی کا دفاع کرتے رہے، آج انہی لوگوں کو نظر انداز کرنا نہ صرف ناانصافی بلکہ نظریاتی کارکنوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ اس رویے کی وجہ سے ہمارے کارکنان، ساتھی اور ووٹرز شدید مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔ عوام سوال کرتے ہیں کہ جو لوگ مشکل وقت میں پارٹی کا سہارا بنے رہے، اگر آج انہیں ہی فراموش کر دیا جائے گا تو پھر نظریاتی سیاست کا مستقبل کیا ہوگا انہوں نے کہا کہ پارٹی کو چاہیے کہ وہ وفادار اور نظریاتی کارکنوں و رہنماؤں کی قربانیوں کو تسلیم کرے اور انہیں جائز سیاسی مقام دے کیونکہ یہی لوگ پارٹی کا اصل سرمایہ اور طاقت ہیں میر احمد نواز خان کھوسہ نے صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، محترمہ فریال تالپور اور سینئر رہنماء اعجاز خان جکھرانی سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس تمام صورتحال کا نوٹس لیں، ضلع صحبت پور اور نصیرآباد ڈویژن میں پارٹی کارکنوں کے تحفظات دور کریں اور نظریاتی کارکنوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ازالہ کریں انہوں نے مزید کہا کہ ہم آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں اور شہید قائدین کے نظریے پر مکمل یقین رکھتے ہیں، تاہم پارٹی قیادت کو زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ان رہنماؤں اور کارکنوں کی دلجوئی کرنی چاہیے جنہوں نے ہر دور میں پارٹی کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نظریاتی لوگوں کو مسلسل نظر انداز کیا گیا تو اس کے منفی اثرات نہ صرف کارکنوں بلکہ پارٹی کی مجموعی سیاسی ساکھ پر بھی پڑیں گے

