کوئٹہ(این این آئی) محکمہ صحت بلوچستان نے بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ 2011 (بیڈا) کے تحت مختلف الزامات کا سامنا کرنے والے 27 ڈاکٹروں کو ذاتی سماعت کا موقع فراہم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں مقررہ تاریخوں پر طلب کر لیا ہے۔محکمہ صحت کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق متعلقہ ڈاکٹروں کو پہلے ہی شوکاز نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں اور اب انہیں اصولِ انصاف کے تحت ذاتی سماعت کا موقع دیا جا رہا ہے۔ تمام ڈاکٹروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ ڈسپلنری مقدمات میں ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔نوٹس کے مطابق 29 جون 2026 کو ایڈیشنل سیکرٹری (ایڈمن) کے روبرو بلاک نمبر 6، بلوچستان سول سیکرٹریٹ کے کمرہ نمبر 5 میں ڈاکٹر یاسر خان، ڈاکٹر بہار شاہ، ڈاکٹر نادر خان اچکزئی، ڈاکٹر بخت کاکڑ، ڈاکٹر محمد شعیب، ڈاکٹر عزیز الرحمن، ڈاکٹر فیاض مستوئی اور ڈاکٹر علی حیدر پیش ہوں گے۔اسی طرح 30 جون 2026 کو ڈپٹی سیکرٹری (ایڈمن-II) کے روبرو کمرہ نمبر 19 میں ڈاکٹر محمد طاہر، ڈاکٹر صبور احمد، ڈاکٹر محمد اویس، ڈاکٹر ثناء اللہ بلوچ، ڈاکٹر نقیب اللہ نثار، ڈاکٹر غلام مرتضیٰ، ڈاکٹر عرفان بگٹی، ڈاکٹر عبداللہ ترین اور ڈاکٹر محی الدین کاکڑ کو طلب کیا گیا ہے۔نوٹس کے مطابق یکم جولائی 2026 کو ڈپٹی سیکرٹری (ایڈمن-I) کے روبرو کمرہ نمبر 22 میں ڈاکٹر علی احمد تاج، ڈاکٹر بصیر اچکزئی، ڈاکٹر محمد اکرم، ڈاکٹر عبدالحئی، ڈاکٹر کامیار خان، ڈاکٹر حفیظ مندوخیل، ڈاکٹر تاج ناصر، ڈاکٹر سلیم، ڈاکٹر سید سمیع اللہ اور ڈاکٹر نورا خان ذاتی سماعت کے لیے پیش ہوں گے۔محکمہ صحت نے ہدایت کی ہے کہ تمام متعلقہ افسران سماعت کے موقع پر اپنے دفاع میں دستاویزی شواہد، تحریری بیانات یا دیگر متعلقہ مواد پیش کرسکتے ہیں۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ تاریخ اور وقت پر بغیر کسی معقول جواز کے پیش نہ ہونے کی صورت میں دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر یکطرفہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

