والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو اچھی خوراک کے ساتھ وقت، محبت اور مثبت تربیت بھی دیں ڈپٹی کمشنر سبی

سبی(رپورٹر)ضلعی انتظامیہ سبی، محکمہ صحت بلوچستان، بلوچستان نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ اور یونیسیف کے مشترکہ تعاون سے Parenting Month کے حوالے سے ایک اہم سیمینار اور آگاہی واک منعقد کیا گیا۔ سیمنار میں ڈپٹی کمشنر سبی میجر ریٹائرڈ الیاس کبزئی ، اسسٹنٹ کمشنر منصور شاہ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبد الستار لانگو٬ میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر جہانزیب بلوچ، پولیو آفیسر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ڈاکٹر صلاح الدین، اے ڈی ایچ او ڈاکٹر سنیل، ڈپٹی ڈائریکٹر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام محمد آصف بگٹی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر منیر احمد گورگیج، بینظیر وومن سینٹر کے مس رخشندہ، ڈسٹرکٹ ڈیٹا آفیسر تعمیر خلق فاؤنڈیشن ریاض احمد بلوچ ، الحاج صوفی سلیمان نقشبندی ،ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آئی ایس ڈی میر وائس خان، مانیٹرنگ آفیسر ہیلتھ شعیب احمد خجک، ڈسٹرکٹ سپورٹ آفیسر لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام مس بانو ارباب، فیسلیٹیشن سینٹر بینظیر نشوونما پروگرام مس رابعہ عزیز، ڈسٹرکٹ پروگرام آفیسر اسلامک ریلیف حفیظ اللہ رئیسانی، آفس اسسٹنٹ پی پی ایچ آئی شوکت علی صاحب اور بڑی تعداد میں سول سوسائٹی، محکمہ صحت، اساتذہ اور خواتین نے شرکت کی سیمینار سے کرتے ہوئے معزز ڈپٹی کمشنر ضلع سبی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبد الستار لانگو، پرنسپل گرلز ہائی سکول مس منزہ نورین، بینظیر وومن سینٹر کے مس رخشندہ، ڈسٹرکٹ سپورٹ آفیسر لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام مس بانو ارباب اور ڈسٹرکٹ نیوٹریشن کوآرڈینیٹر حاجی بلوچ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بچوں سے وابستہ ہوتا ہے اور بچوں کی شخصیت و مستقبل والدین کی آغوش میں تشکیل پاتا ہے۔ انہوں نے بچے کی زندگی کے ابتدائی 1000 دنوں (حمل سے لے کر دو سال کی عمر تک) کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس سنہری عرصے میں بچے کے دماغ کی تقریباً 80 فیصد نشوونما ہوتی ہے۔ متوازن غذا، ماں کے دودھ، بروقت تکمیلی غذا، حفاظتی ٹیکے، مثبت والدین کی توجہ اور محبت بھرا ماحول بچے کو غذائی قلت سے محفوظ رکھتے ہوئے اس کی ذہنی، جسمانی اور تعلیمی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتا ہے ڈسٹرکٹ نیوٹریشن کوآرڈینیٹر نے بات کرتے ہوئے کہا کہ شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کے علاج کے لیے 8 آؤٹ پیشنٹ تھیراپیوٹک پروگرام (OTP) سینٹرز فعال ہیں،جن میں و ٹی پی سینٹر ڈی ایچ کیو ہسپتال سبی ٬او ٹی پی سینٹر ایم سی ایچ سبی ٬ او ٹی پی سینٹر بی ایچ یو دہپال ٬ او ٹی پی سینٹر بی ایچ یو سلطان کوٹ ٬ او ٹی پی سینٹر سول ڈسپنسری صافی ٬ او ٹی پی سینٹر سول ڈسپنسری منڈائی ٬ او ٹی پی سینٹر آر ایچ سی بختیار آباد ٬ او ٹی پی سینٹر آر ایچ سی لہڑی ان مراکز میں شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کو تشخیص، علاج، غذائی سپلیمنٹس اور والدین کی رہنمائی کی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں اور 30 نیوٹریشن سائٹس یونیسیف کے تعاون لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کے تحت کام کر رہے جس میں لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنے کیچمنٹ ایریا میں کام کر کے شدید غذائی کمی کے شکار بچوں کو او ٹی پی سینٹر ریفر کرتے ہیں اور کمیونٹی میں آگاہی سیشنز کا انعقاد بھی کرتی ہیں اس کے علاوہ بینظیر نشوونما پروگرام کے تحت دو نشوونما فیسلٹیشن سینٹرز (ڈی ایچ کیو ہسپتال سبی اور آر ایچ سی لہڑی)فعال ہیں جہاں حاملہ خواتین،دودھ پلانے والی ماؤں اور دو سال سے کم عمر کے بچوں کو غذائیت، صحت اور مثبت والدین کی تربیت کی خدمات دی جا رہی ہیں سیمینار میں International Day of Play کے پیغام *Protect Play, Protect Childhood* کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا گیا کہ والدین بچوں کے ساتھ کھیل کر، کہانیاں سناتے ہوئے اور مثبت بات چیت کے ذریعے بچے کی شخصیت کو مضبوط بنائیں۔ بچوں کی بہتر پرورش والدین کے ساتھ ساتھ حکومت، محکمہ صحت، تعلیم، مقامی حکومتوں، میڈیا، سول سوسائٹی اور کمیونٹی کی مشترکہ ذمہ داری ہے مقررین نے تمام والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو اچھی خوراک کے ساتھ وقت، محبت اور مثبت تربیت بھی دیں۔ انہوں نے عزم کا اظہا ر کیا کہ ضلع سبی کا کوئی بھی بچہ غذائی قلت، محبت، تعلیم اور محفوظ بچپن سے محروم نہیں رہے گا سیمینار کا اختتامی پیغام یہ تھا اس موقع پر محکمہ صحت کے افسران، ترقیاتی شراکت داروں، میڈیا نمائندگان، اساتذہ اور مقامی معززین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں