ایران کی خفیہ ایجنسیوں اور سیکیورٹی اداروں نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین میں شرکت کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس نہیں دی۔
اس بات کا دعویٰ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں کیا جس کے مطابق یہ بات اُن چار سینئر ایرانی حکام نے بتائی جو تجہیز و تکفین کی سیکیورٹی سے منسلک ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی سیکیورٹی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے جنازے میں شرکت کے لیے منظرعام پر آئے تو اسرائیل انھیں نشانہ بنا سکتا ہے یا ان کے خفیہ مقام کا سراغ لگا سکتا ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے 9 جولائی کو مشہد میں اپنے والد کی نماز جنازہ میں شرکت اور تدفین خود ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی تاہم ایرانی سیکیورٹی حکام نے کلیئرنس نہیں دی۔
امریکی اخبار کے بقول یہ بات ان کے نمائندے کو پاسدارانِ انقلاب کے 2 اہلکاروں اور جنازے کے انتظامات سے وابستہ ایک ذریعے نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتائی تھی۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے کی جانے والی اعلیٰ سرکاری تقرریاں اس بات کا اہم اشارہ ہوں گی کہ وہ ایرانی سیاست میں سخت گیر یا نسبتاً اعتدال پسند دھڑے میں سے کس کے مؤقف کو ترجیح دیتے ہیں۔
خیال رہے کہ اپنے والد کی 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہادت کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر بنے لیکن وہ تاحال منظرعام پر نہیں آئے ہیں۔ ان کے بیانات سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای، والدہ اور ایک بھائی بھی شہید ہوگئے تھے جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای خود زخمی ہوئے۔ اسی وجہ سے وہ گزشتہ کئی ماہ سے کسی عوامی تقریب یا سرکاری اجتماع میں دکھائی نہیں دیے۔
اسی حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ بھی شہید ہوگئی تھیں جنھیں گزشتہ روز سپرخاک کیا گیا تاہم سیکیورٹی خدشات کے باعث سپریم لیڈر اپنی اہلیہ کی نماز جنازہ میں بھی شرکت نہیں کرپائے تھے۔
امریکی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے قدامت پسند سیاسی دھڑوں میں بھی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ سخت گیر عناصر امریکا کے ساتھ سفارت کاری کی مخالفت کر رہے ہیں اور بعض نے مذاکرات میں شامل ایرانی حکام کے خلاف قانونی کارروائی بلکہ سزائے موت تک کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب نسبتاً اعتدال پسند حلقے جیسے صدر مسعود پزیشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اقتصادی مشکلات کے پیش نظر امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کے حامی ہیں۔
واضح رہے کہ اس خبر میں شامل تمام معلومات نیویارک ٹائمز کی رپورٹ اور اس کے نامعلوم ذرائع پر مبنی ہیں جبکہ ایرانی حکومت یا مجتبیٰ خامنہ ای کے دفتر کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

