کوئٹہ (این این آئی) گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ امن و امان کا قیام حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے،بلوچستان کا امن خراب کرنے کے لیے بعض بڑی قوتیں سرگرم ہیں،مخلوط حکومتوں میں اتحادیوں کے تحفظات فطری ہوتے ہیں، جنہیں دور کیا جاتا ہے،سرفراز بگٹی کی آئینی مدت سے متعلق سوال انہی سے پوچھا جانا چاہیے، یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں نجی ہوٹل میں تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ گورنر بلوچستان شیخ جعفر خا ن مندوخیل نے کہا کہ بعض معاملات جماعتوں کے اندرونی فورمز پر زیر بحث آتے ہیں، جنہیں عوامی سطح پر بیان نہیں کیا جاتا، مخلوط حکومتوں میں اتحادیوں کے تحفظات فطری ہوتے ہیں، جنہیں دور کیا جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ ڈھائی سالہ معاہدوں سے زیادہ اہم صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح ہے صوبائی کابینہ تاحال مکمل نہیں، اسے جلد مکمل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سرفراز بگٹی کی آئینی مدت سے متعلق سوال انہی سے پوچھا جانا چاہیے۔گورنر بلوچستان نے کہا کہ ڈیجیٹل ہیلتھ انفارمیشن سسٹم جامع انداز میں عملے کی حاضری کو یقینی بنائے گا، عمارت کے فعال ہونے کی تفصیلات بھی اس سسٹم سے ملیں گی جس سے امید ہے کہ مستقبل میں صحت کا شعبہ بہتری کی جانب گامز ن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان حکومت کے لیے چیلنج ہے حکومت اپنی بھرپور کوشش کر رہی ہے تاہم امن کو خراب کرنے کے لیے بڑی طاقتیں عمل پیرا ہیں مجھے امید کہ جلد ہی امن و امان کی صورتحال پر قابو پا لیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ سیاستدان کے طور پر میں مذاکرات اور بات چیت کا قائل ہوں ہر مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے مسائل اگر بات چیت سے حل ہوں تو انسانی جانوں کا ضیاع روکا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ سیکرٹری صحت ڈاکٹروں سے نرمی کریں اور ڈاکٹروں سے بھی کہیں گے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں ہماری ہمدردی ڈاکٹروں کے ساتھ ہے لیکن انہیں بھی کارکردگی دیکھانی ہوگی۔

