شہید ملک محمد علی تھانے کی حدود میں مسلح ڈاکو موٹر سائیکل اور موبائل فون چھین کر فرار

کیچ (رپورٹر)محکمہ تعلیم کی طرف سے اسکولوں میں بچوں پر تشدد کی ممانعت کی حکومت بلوچستان کی حالیہ تجدیدی نوٹیفیکشن پر تبصرہ کرتے ہوئے اساتذہ نمائندہ تنظیم وطن ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان ضلع کیچ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بچوں پر ہر قسم کے تشدد کی ممانعت یقیناً ایک خوش آئند ناگزیر اور مہذب معاشرے کی علامت ہے ہر بچے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک محفوظ پُرامن اور باوقار ماحول میں تعلیم حاصل کرے یہ وہ بنیادی اصول ہے جس پر کسی بھی ترقی یافتہ قوم کی بنیاد رکھی جاتی ہے لیکن المیہ کی حد تک دکھ یہ ہے کہ اسی نظام میں وہ اساتذہ جو ان بچوں کے مستقبل کے معمار ہیں حکومت کی طرف سے وہ خود عدم تحفظ بے توقیری بدسلوکی اور تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں آخر یہ کیسا تضاد ہے یہ کیسا انصاف ہے ایک طرف بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنائے جاتے ہیں مگر دوسری طرف ان بچوں کی تعلیم و تربیت پر مامور اساتذہ کے وقار عزتِ نفس اور جان و مال کے تحفظ کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کیا ایک استاد کی عزت ایک بچے کی تربیت کا بنیادی ستون نہیں کیا معاشرے میں ایک بے توقیر استاد ایک باوقار نسل تیار کر سکتا ہے آج حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ اساتذہ کو ان کے طلباء کے سامنے سڑکوں پر گھسیٹا جاتا ہے انہیں تشدد کا نشانہ بناکر جیلوں میں ڈالا جاتا ہے ان کی آواز کو دبایا جاتا ہے اور ان کے جائز مطالبات کو طاقت کے زور پر کچلا جاتا ہے کیا یہی وہ معاشرہ ہے جس کا خواب ہم دیکھا ہے کیا یہی انصاف ہے کہ استاد جو علم کا چراغ روشن کرتا ہے خود اندھیروں میں دھکیل دیا جائےاگر یہی روش جاری رہی تو بعید نہیں کہ کل یہ اعلان بھی سننے کو ملے کہ شاگرد استاد کی توہین کر سکتا ہے اس پر ہاتھ اٹھا سکتا ہے مگر استاد کو خاموش رہنے کا پابند بنایا جائے گا یہ نہ صرف تعلیم کے نظام کی تباہی ہوگی بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو کھوکھلا کر دے گی ایک مہذب اور باشعور معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں طلبہ اور اساتذہ دونوں کے حقوق کا یکساں احترام کیا جائے جہاں بچوں کو تحفظ دیا جائے وہیں اساتذہ کو بھی عزت وقار اور مکمل تحفظ فراہم کیا جائے کیونکہ اگر استاد محفوظ نہیں ہوگا تو علم محفوظ نہیں ہوگا اور اگر علم محفوظ نہیں ہوگا تو مستقبل بھی محفوظ نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں