بینکاک(پ ر ) تھائی پاک بزنس فورم کی جانب سے پاکستانی سفیر برائے مملکتِ تھائی لینڈ رخسانہ افضال کے اعزاز میں ایک پروقار الوداعی تقریب بینکاک کے نجی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ تقریب کا آغاز پاکستان اور تھائی لینڈ کے قومی ترانہ سے کیاگیاجس میں تھائی پاک بزنس فورم کے چیئرمین افتخار علی، صدر شاہین یوسف اعوان، سینئر نائب صدر ملک ارشد حیات، جنرل سیکریٹری سہیل کوثر، ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان، تجارتی اور سفارتی رہنماوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مہمانوں میں کینیا کی سفیر لوسی نجیری کیروتھو، (سی ای او، مائی ٹرپ بینکاک) ایکارات موکیم، سابق تھائی سینیٹرسریوات اور تھائی پاکستان فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے صدر سومکِت لالا بھی شامل تھے۔تقریب کے دوران شاہین یوسف اعوان نے رخسانہ افضال کو ان کی پرخلوص خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ سفیر کی کوششیں دونوں ممالک کے درمیان دوستی، شراکت اور تعاون کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر تھائی لینڈ میں مقیم پاکستانی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے سفیر رخسانہ افضال کے خدمات کا تذکرہ کیا۔ اپنے خطاب میں رخسانہ افضال نے کہا کہ اپنے مختصر دورِ ماموریت کے دوران انہوں نے پاکستانی اور تھائی کاروباری برادریوں کو جوڑنے کی بھرپور کوشش کی اور وہ اس میں کامیاب رہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیںاپنی خدمات پر فخر ہے اور وہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تجارتی روابط کی حوصلہ افزائی جاری رکھنے کی خواہاں ہیں۔ رخسانہ افضال نے بتایا کہ وہ تھائی لینڈ سے قیمتی اسباق اور یادوں کا خزانہ سمیٹ کر واپس جا رہی ہیں اور خاص طور پر تین شعبے پاکستان کے لیے قابلِ تقلید ہیں: سیاحت کی ترقی، حلال سینٹر کی کامیابی، اور”ورلڈز کچن“ کے طور پر تھائی لینڈ میں موجود دنیا بھر کے پکوان و کھانوں کا اعلیٰ معیار۔ رخسانہ افضال نے تھائی سیاحوں کو پاکستان میں خوش آمدید کہا اور زور دیا کہ پاکستان نہ صرف مذہبی سیاحت بلکہ ایڈونچر ٹورازم اوردیگر ثقافت و سیاحت کے لیے بھی بہترین مقام ہے۔ انہوں نے پاکستان کے پہاڑ، دریا، جھیلیں، باغات، جنگلات، برفباری والے علاقے، لذیذ کھانے اور وسیع و عریض صحراو ¿ں کو سیاحتی کشش قرار دیا۔تقریب میں شریک تجارتی، سفارتی کمیونٹی رہنماوں نے بھی مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان سیاحت اور تجارتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ تقریب کے اختتام پر رخسانہ افضال کوصدر شاہین یوسف اعوان اور جنرل سیکریٹری سہیل کوثر نے گلدستہ پیش کیا گیا اور شرکاءنے ان کی سفارتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی آئندہ زندگی اور ذمہ داریوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

