وینزویلا کی حکومت نے زلزلے میں منوں مٹی تلے دبے زندہ افراد کی تلاش میں ریسکیو کتوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انھیں وینزویلا کے کینائن ہیروز کا اعزاز دے دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اعزاز پانے والے ریسکیو کتوں میں کولمبیا کے چار، سلواکیہ کے چار، اسپین کے پانچ، اردن اور پرتگال کے چھ چھ، جبکہ جمہوریہ چیک کے آٹھ ریسکیو کتے شامل تھے۔
وینزویلا کی قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگیز نے بتایا کہ امدادی کارروائیوں میں دنیا بھر سے آنے والے 137 سرچ اینڈ ریسکیو کتوں نے حصہ لیا۔ سب سے زیادہ توجہ اسپین کی فوج کے ریسکیو کتے سونامی نے حاصل کی۔
سونامی نامی کتا مخلوط نسل کا کتا ہے اور اپنی ایک بھوری اور ایک نیلی آنکھ کی وجہ سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ سونامی نے گزشتہ 10 دنوں کے دوران ملبے تلے دبے 25 افراد کو زندہ تلاش کرنے میں مدد فراہم کی۔
یہ اس کی آخری امدادی مہم تھی جس کے بعد اسے ریٹائر کیا جا رہا ہے۔ وینزویلا کی کینائن ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیم نے کہا کہ سونامی نے اپنی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کیریئر کا اختتام کیا۔
ارجنٹینا سے آنے والا بیلجیئن میلینوا نسل کا کتا “بارٹ” بھی امدادی کارروائیوں میں نمایاں رہا۔
ارجنٹائن کے صدارتی ترجمان بارٹ نے ملبے سے دو بچوں کو زندہ نکالنے میں مدد دی جبکہ چھ افراد کی لاشوں کا سراغ بھی لگایا۔ بارٹ ارجنٹائن کی بحریہ کے خصوصی امدادی دستے کے ساتھ وینزویلا پہنچا تھا۔
اسی طرح ایل سلواڈور کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے کتے رامبو نے بھی کئی مقامات پر زندہ افراد کی نشاندہی کی۔ اس کے ہینڈلر فرنینڈو پورٹیلو کے رامبو انسانی بو محسوس کرتے ہی مسلسل بھونک کر امدادی کارکنوں کو درست مقام کی نشاندہی کرتا ہے جس سے ملبے میں دبے افراد تک فوری رسائی ممکن ہوتی ہے۔
میکسیکو کی انٹرنیشنل ٹوپوس ریسکیو بریگیڈ کی خاتون کتیا “مالی” نے ایک دلچسپ کارروائی میں ملبے تلے دبے ایک سفید پالتو مالٹیز کتے کو زندہ تلاش کیا جبکہ اسی نے امدادی ٹیموں کو ایسے مقامات کی بھی نشاندہی کی جہاں سے 6 افراد کی لاشیں برآمد کی گئیں۔
امدادی کارروائیوں میں میکسیکو ریڈ کراس کے اورلی اور بالام، کولمبیا کے محکمہ فائر بریگیڈ کے داستان اور اسپین کے آئیوی اور ٹینا سمیت کئی دیگر تربیت یافتہ کتے بھی شریک رہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق زلزلوں میں اب تک 2 ہزار 954 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ لاپتا افراد کی تعداد کے بارے میں تاحال کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔
امدادی ٹیمیں اب بھی متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹانے اور ممکنہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
متعدد ممالک سے آنے والے ان چار ٹانگوں والے ہیروز کو ان کی خدمات کے اعتراف میں وینزویلا کی حکومت نے وینزویلا کے کینائن ہیروز کے اعزاز سے بھی نواز دیا۔

