تحریر: رشیداحمدنعیم
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں سیاسی اور معاشی معاملات کو الگ الگ خانوں میں رکھ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ حقیقت اب کسی دلیل کی محتاج نہیں رہی کہ معیشت صرف اعداد و شمار، بجٹ، ٹیکس وصولیوں یا زرِ مبادلہ کے ذخائر کا نام نہیں بلکہ اس کا گہرا تعلق ریاست کے سیاسی مزاج، ادارہ جاتی استحکام، پالیسیوں کے تسلسل اور عوامی اعتماد سے ہے۔ دنیا کی معاشی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ جن ممالک نے سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی اور پائیدار پالیسیوں کو اپنی ترجیح بنایا انہوں نے نہ صرف اقتصادی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں بلکہ اپنی عوام کے معیارِ زندگی کو بھی بہتر بنایا۔ اس کے برعکس جہاں سیاسی بے یقینی، محاذ آرائی اور غیر یقینی فیصلے معمول بن گئے وہاں معاشی ترقی کی رفتار بھی سست پڑ گئی اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
پاکستان کی معیشت گزشتہ کئی برسوں سے مختلف داخلی اور بیرونی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ مہنگائی، مالیاتی خسارہ، بڑھتا ہوا قرض، صنعتی سست روی، برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونا، توانائی کے مسائل اور سرمایہ کاری میں کمی ایسے عوامل ہیں جنہوں نے معاشی منظرنامے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان مشکلات کے اسباب صرف اقتصادی نہیں بلکہ ان کے پس منظر میں سیاسی عدم استحکام بھی ایک اہم حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ جب ملک میں سیاسی کشیدگی بڑھتی ہے توحکومت اور اپوزیشن مسلسل محاذ آرائی میں مصروف رہتی ہیں۔ احتجاجی سیاست معمول بن جاتی ہے اور قومی معاملات پر اتفاقِ رائے کا فقدان پیدا ہو جاتا ہے تواس کے اثرات براہِ راست معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔
سرمایہ کاری کا بنیادی اصول اعتماد ہے۔ کوئی بھی مقامی یا غیر ملکی سرمایہ کار اپنا سرمایہ ایسے ماحول میں لگانا پسند نہیں کرتا جہاں مستقبل غیر یقینی ہو، پالیسیوں میں بار بار تبدیلی آتی ہو یا ریاستی فیصلے سیاسی اتار چڑھاؤ کے تابع ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر اقتصادی سمت تبدیل نہیں ہوتی۔ وہاں قومی معاشی پالیسیوں کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں ریاستی ترجیحات کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کو بھی اسی سوچ کی ضرورت ہے کہ معاشی اصلاحات کو وقتی سیاسی مفادات سے بالاتر رکھا جائے۔گزشتہ چند برسوں کے تجربات نے واضح کیا ہے کہ جب بھی سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا اس کے ساتھ ہی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ اسٹاک مارکیٹ میں بے یقینی دیکھی گئی۔ روپے پر دباؤ بڑھا اور سرمایہ کاروں نے انتظار کی پالیسی اختیار کی۔ اس کے برعکس جب سیاسی ماحول نسبتاً پرسکون رہا تو معاشی اشاریوں میں بہتری کے آثار بھی نمایاں ہوئے۔ یہ تعلق اتفاقی نہیں بلکہ معاشیات کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہے کیونکہ سرمایہ ہمیشہ استحکام، شفافیت کے حامل ماحول کا رخ کرتا ہے۔
معاشی استحکام کا مطلب صرف یہ نہیں کہ افراطِ زر کی شرح کم ہو جائے یا زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھ جائیں بلکہ اس کا اصل پیمانہ عام شہری کی زندگی میں بہتری ہے۔ اگر نوجوان کو باعزت روزگار مل رہا ہو، صنعت کار اعتماد کے ساتھ سرمایہ لگا رہا ہو، کسان کو اپنی محنت کا مناسب معاوضہ مل رہا ہو، تاجر مستقبل کے حوالے سے مطمئن ہو اور متوسط طبقہ مہنگائی کے بوجھ تلے نہ دبا ہو تو یہ معاشی استحکام کی حقیقی علامت ہے۔ یہ تمام اہداف اسی وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب سیاسی استحکام اقتصادی منصوبہ بندی کو مستقل بنیاد فراہم کرے۔پاکستان کو قدرت نے بے شمار وسائل سے نوازا ہے۔ زرخیز زمین، نوجوان افرادی قوت، معدنی ذخائر، جغرافیائی محلِ وقوع اور علاقائی تجارت کے امکانات ایسی قوتیں ہیں جن کی بنیاد پر ملک خطے کی اہم معیشت بن سکتا ہے مگر وسائل صرف امکانات پیدا کرتے ہیں ترقی کی ضمانت نہیں بنتے۔ ترقی کے لیے ضروری ہے کہ قومی پالیسیوں میں تسلسل ہو، ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے مؤثر انداز میں کام کریں۔ سرمایہ کار کو قانونی تحفظ حاصل ہو اور ریاست کا نظم و نسق پیشہ ورانہ بنیادوں پر آگے بڑھے۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ سیاسی استحکام صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ اپوزیشن، پارلیمان، عدلیہ، ریاستی اداروں، ذرائع ابلاغ، کاروباری طبقے اور سول سوسائٹی سمیت تمام قومی قوتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اختلافِ رائے ہر جمہوریت کا حسن ہے لیکن اختلاف اگر تصادم میں تبدیل ہو جائے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان ریاست اور عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جمہوریت اسی لیے مضبوط سمجھی جاتی ہے کہ وہاں سیاسی مقابلہ ضرور ہوتا ہے مگر قومی مفادات پر اتفاقِ رائے بھی برقرار رہتا ہے۔
پاکستان کی نوجوان نسل آج بہتر مستقبل کی متلاشی ہے۔ لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان ہر سال روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں مگر معیشت کی محدود رفتار ان کی صلاحیتوں کو جذب نہیں کر پاتی۔ اگر سیاسی ماحول پائیدار ہو، سرمایہ کاری بڑھے، صنعتی سرگرمیوں میں وسعت آئے، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، سیاحت اور برآمدی شعبے کو مستقل پالیسیوں کے ذریعے فروغ دیا جائے تو یہی نوجوان قومی ترقی کا سب سے بڑا سرمایہ بن سکتے ہیں۔ اس کے برعکس مسلسل سیاسی بے یقینی ہنر مند افرادی قوت کے بیرونِ ملک انخلا کو تیز کرتی ہے جس کا نقصان آنے والی نسلوں تک محسوس کیا جاتا ہے۔اسی طرح عالمی سطح پر بھی پاکستان کے بارے میں تاثر اس کی داخلی کیفیت سے جڑا ہوا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے، ترقیاتی شراکت دار اور سرمایہ کار کسی بھی ملک کی اقتصادی صلاحیت کے ساتھ اس کے سیاسی استحکام، شفاف حکمرانی اور قانونی نظام کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقتصادی سفارت کاری صرف بیرونی تعلقات سے کامیاب نہیں ہوتی بلکہ اس کی بنیاد اندرونی استحکام پر استوار ہوتی ہے۔ جب ریاست اپنے داخلی معاملات میں اعتماد پیدا کرتی ہے تو بیرونی دنیا بھی اس پر زیادہ اعتماد کرتی ہے۔ یہ وقت الزام تراشی یا ایک دوسرے کو کمزور کرنے کا نہیں بلکہ قومی ترجیحات کے تعین کا ہے۔ معیشت کسی ایک جماعت، ایک حکومت یا ایک ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سیاسی قیادت انتخابی سیاست سے آگے بڑھ کر ایسے قومی معاشی ایجنڈے پر اتفاق کرے جو حکومتوں کی تبدیلی سے متاثر نہ ہو۔ ٹیکس اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، توانائی کے شعبے کی بہتری، تعلیم، تحقیق، ہنرمندی، ڈیجیٹل معیشت اور سرمایہ کاری جیسے معاملات کو قومی پالیسی کا مستقل حصہ بنایا جائے تاکہ ہر آنے والی حکومت انہی اہداف کو مزید آگے بڑھائے۔
پاکستان کی تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ جب بھی قومی قیادت نے وسیع تر مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفاد پر ترجیح دی ملک نے مثبت پیش رفت کی۔ آج بھی ضرورت اسی سیاسی بصیرت، آئینی بالادستی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور معاشی دور اندیشی کی ہے۔ مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جہاں سیاسی اختلافات آئین کے دائرے میں رہ کر حل ہوں۔قانون سب پر یکساں نافذ ہو۔ ریاستی ادارے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کریں اور معاشی فیصلے طویل المدتی قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔ اگر پاکستان اس سمت میں مستقل مزاجی سے آگے بڑھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو معاشی استحکام محض ایک خواہش نہیں بلکہ ایک قابلِ حصول حقیقت بن سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف موجودہ معاشی مشکلات سے نکلنے کی بنیاد فراہم کرے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط، خوداعتماد اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کا ضامن بھی ثابت ہوگا۔
03014033622
rasheed03014033622@gmail.com

