مشرق وسطیٰ، دفاع اور سکیورٹی کے نئے منصوبے

ڈاکٹر رشید احمد خاں
ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ جنگ کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں جو نئی جیو پولیٹکل حقیقتیں کھل کر سامنے آئی ہیں ان میں سب سے نمایاں یہ ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ہوائی‘ بحری اور زمینی افواج کے وسیع اڈوں اور اردگرد کے سمندروں میں تین بحری بیڑوں کی مستقل موجودگی کے باوجود امریکہ خطے بالخصوص خلیج فارس میں اپنے اتحادیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی لگاتار اور بھاری بمباری کے باوجود ایران نے خطے میں امریکہ کی کم از کم 20 دفاعی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ان میں بعض تنصیبات قطر‘ کویت‘ متحدہ عرب امارات‘ بحرین اور سعودی عرب میں قائم تھیں۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کی طرف سے کی گئی کارروائیوں میں ان ملکوں کی اپنی سول اور معاشی تنصیبات کو بھی سخت نقصان پہنچا۔ خطے میں قائم کردہ امریکی دفاعی نظام کا مقصد آبنائے ہرمز کے راستے تیل اور گیس کی برآمد کا تحفظ یقینی بنانا تھا مگر امریکہ اپنی جنگی قوت کے باوجود ایران سے اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلوا نہیں سکا۔ نتیجتاً بین الاقوامی منڈی میں نہ صرف تیل اور گیس کی کم سپلائی کا بحران پیدا ہوا بلکہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں کی معیشتیں سنگین خطرات سے دوچار ہو گئیں۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے خلیج فارس کی عرب ریاستوں نے اپنے تحفظ کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں کیونکہ حالیہ جنگ کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ اپنے دفاع اور تحفظ کے لیے وہ امریکہ پر انحصار نہیں کر سکتیں۔ اس سلسلے میں مختلف تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔ امریکہ کی طرف سے بھی نہ صرف خلیج فارس بلکہ مشرق وسطیٰ کے پورے خطے کے لیے ایک نئے دفاعی اور سکیورٹی نظام کی تشکیل کے لیے اقدامات زیر غور آ رہے ہیں۔ حال ہی میں بحرین کی میزبانی اور امریکی سینٹرل کمانڈ کی قیادت میں ایک سکیورٹی کانفرنس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس سے قبل امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے بحرین ہی میں امریکہ اور خلیج تعاون کونسل (GCC) کے دفاعی اہلکاروں کی ایک کانفرنس کی صدارت کی تھی۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے تحت 2 جولائی کو ہونے والی علاقائی سکیورٹی کانفرنس کی طرح 25 جون کو ہونے والی خلیج تعاون کونسل کی کانفرنس کا فوکس بھی آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کے خاتمے اور آبی گزرگاہ سے بلا روک ٹوک اور کمرشل جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت تھا۔ ایران نے دونوں کانفرنسوں کے اعلامیہ میں درج مقاصد کو رد کیا ہے اور صاف اعلان کیا ہے کہ خلیج فارس کے خطے میں دفاع اور تحفظ کی ضمانت صرف اس خطے کے ممالک ہی دے سکتے ہیں‘ باہر سے کسی ملک کا اس میں کوئی کردار نہیں۔
مشرق وسطیٰ میں تجویز کیے جانے والے دفاعی سٹرکچر کی کیا نوعیت ہے‘ اور یہ پرانے نظام کو کس حد تک تبدیل کر سکتا ہے‘ اس کا جائزہ لینے سے یہ بتانا ضروری ہے کہ پرانا نظام کیونکر ناکام ہوا۔ دوسری جنگ عظیم سے قبل مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس کے خطے میں بیرونی دفاع اور اندرونی سلامتی کی ذمہ داری برطانیہ اور فرانس (شام اور لبنان میں فرینچ مینڈیٹ تھا) کے پاس تھی۔ ان ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے جو نظام (خصوصاً برطانیہ نے) قائم کیا گیا تھا اس کی ابتدائی شکل کا سہرا پرتگیزی جنرل الفانسو ڈی البوقرق (Afonso de Albuquerque) کو جاتا ہے‘ جس نے پندرہویں صدی کے آغاز میں آبنائے ہرمز کی اہمیت کو پہچانتے ہوئے جریزہ سوکوترااور پھر 1507ء میں ہرمز کے جزیرے اور پھر مشرق میں آبنائے ملاکا پر قبضہ کر لیا۔ پرتگیزیوں نے یہ دفاعی نظام اپنی حریف یورپی طاقت ہالینڈ (نیدرلینڈز) کو بحر ہند کے خطے میں اپنی سلطنت قائم کرنے سے روکنے کے لیے قائم کیا تھا اور یہ سٹرٹیجک پلان اتنا مؤثر تھا کہ پرتگیزی مغرب میں بحیرہ عرب سے لے کر مشرق میں خلیج بنگال تک‘ ایک لمبے عرصہ تک ان پانیوں میں اپنی سلطنت قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔ آخر کار ہالینڈ نے 1641ء میں آبنائے ملاکا اور اس کے بعد 1658ء میں سیلون (سری لنکا) ان سے چھین لیا۔ اٹھارہویں صدی کی آخری دہائیوں میں ہندوستان پر قبضہ جمانے کے لیے برطانیہ اور فرانس کی جنگ کا نتیجہ اول الذکر کے حق میں نکلا تو لندن نے مشرق وسطیٰ اور بحر ہند کے خطے کا دفاع کرنے کے لیے اسی سٹرکچر کو اختیار کیا بلکہ اسے مزید مضبوط کرنے کے لیے مشرق میں سنگاپور‘ وسط میں کولمبو اور مغرب میں عدن میں فوجی اڈے قائم کیے۔ دوسری جنگ عظیم میں نقصانات اٹھانے کے بعد جب برطانیہ اور فرانس نے مشرق وسطیٰ کے دفاع کی ذمہ داری اٹھانے سے معذرت کی تو انہوں نے نئی ابھرتی ہوئی عالمی طاقت امریکہ کو نہر سویز سے لے کر آبنائے ملاکا تک اس وسیع اور اہم خطے کی دفاعی ذمہ داری سونپ دی۔ امریکہ نے نہ صرف پہلے سے موجود برطانوی اڈوں کو مزید وسعت دی بلکہ پانچویں جنگی بیڑے کو بحر روم میں مقیم چھٹے اور بحر ہند میں ساتویں بیڑے کی دفاعی ذمہ داریوں میں شامل کر دیا۔ البتہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی انٹری‘ سوویت یونین کے ساتھ اس کی سرد جنگ کے آغاز کے ساتھ ہوئی۔ اس لیے 1950ء کے عشرے سے لے کر 1990ء میں سرد جنگ کے خاتمہ تک‘ مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس کے دفاع کے لیے امریکی نظام کی سمت اور فوکس بیرونی طاقت یعنی سوویت یونین کی مداخلت کو روکنے پر مرکوز رہا۔ امریکہ نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس سے ایک ریاست اس کی علاقائی سیادت کو چیلنج کرنے کے لیے ابھرے گی۔ اگرچہ 1953ء میں ڈاکٹر مصدق کی قوم پرست حکومت نے اینگلو ایرانین آئل کمپنی کو قومی ملکیت میں لے کر اس انتہائی اہم شعبے میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی بالادستی کو چیلنج کیا تھا مگر سی آئی اے کے ذریعے جتنی آسانی کے ساتھ امریکہ اور برطانیہ نے ایران میں رجیم چینج کر کے سابق شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کو آئندہ 26 سال کے لیے تخت پر بٹھا دیا‘ اس سے امریکیوں کو یقین آ گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ یا خلیج فارس کے اندر سے اب کوئی ملک مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات‘ جن میں اسرائیل کی سکیورٹی بھی شامل ہے‘ کو چیلنج کرنے کی جرأت نہیں کرے گا لیکن امریکیوں نے مشرق وسطیٰ کی حالیہ تاریخ میں رونما ہونے والے واقعات کا سنجیدگی سے جائزہ نہیں لیا‘ اس لیے وہ ان سے صحیح نتائج اخذ نہیں کر سکے۔
1950ء کی دہائی میں مغرب مخالف عرب قوم پرستی کی لہر جس نے بغداد پیکٹ (بعد میں سینٹو) کی بنیادوں پر استوار مشرق وسطیٰ کے دفاعی نظام کو ناکام بنا دیا تھا‘ کسی بیرونی طاقت (سوویت یونین) کی پیدا کردہ نہیں تھی بلکہ مشرق وسطیٰ کے اندرونی محرکات کا نتیجہ تھی۔ اس میں 1948-49ء میں عربوں اور اسرائیل کے مابین پہلی جنگ میں نئی صہیونی ریاست اسرائیل کے ہاتھوں متحدہ عرب فوجوں کی شکست کا بھی بہت اہم دخل ہے۔ حالیہ ایران اور امریکہ‘ اسرائیل جنگ سے پیدا ہونے والی جن یقینی تبدیلیوں کا ذکر کیا جا رہا ہے ان کا زیادہ تر تعلق علاقائی یا عالمی سطح پر جیو پولیٹکل تبدیلیوں سے ہے مگر اس جنگ کا خطے کے ممالک کی اندرونی سیاست پر کیا اثر ہوگا‘ اس پر تجزیے اور تبصرے کم ہیں۔ تاہم مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے سیاسی نقشے میں اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘ خاص طور پر اس وقت جب اس خطے کے دفاع اور سلامتی کے لیے نئے ابھرتے ہوئے ڈھانچوں کا جائزہ لیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں