سعود عثمانی
بظاہر وہ مہیب سایہ جس کا نام پاک بھارت جنگ ہے‘ دونوں ملکوں کے سر سے ہٹتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آئندہ جنگ کا خدشہ نہیں رہا۔ مطلب صرف یہ ہے کہ وہ جو آپریشن سندور 2 کی بار بار دھمکی دی جا رہی تھی اور جون جولائی 2025ء میں ایسا لگتا تھا کہ یہ صرف دھمکی نہیں ہے‘ اب پس منظر میں چلی گئی ہے۔ اپنے عوام کو مطمئن رکھنے کے لیے جو بھی سرکاری بیانات دیے جائیں یا راج ناتھ اور امیت شاہ جو بھی سخت بیانات داغیں‘ عملی طور پر صورت حال یہ ہے کہ بھارت کے پاس دوبارہ رابطوں اور بات چیت کے علاوہ آپشن بہت محدود ہو چکے ہیں۔
سوا سال پہلے کا پاک بھارت منظر ذہن میں لائیے۔ کیا ٹھنا ٹھنی اور جنگی صورت حال تھی۔ پہلگام واقعے کے بعد کشیدگی عروج پر پہنچی اور چار روزہ جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ جنگ ختم ہوئی لیکن تناؤ مہینوں چلتا رہا۔ اس حد تک کہ کہا جاتا تھا کہ دوبارہ کسی وقت بھی جنگ شروع ہو جائے گی۔ بھارت کی طرف سے آپریشن سندور 2 کی بات مسلسل کی جا رہی تھی۔ پاکستان بھی تیزی سے اپنی تیاری کرتا دکھائی دے رہا تھا۔ یہ سب منظر آپ کے ذہن میں تازہ ہوں گے۔ لیکن حالات اتنی تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں کہ اب میرے خیال میں براہ راست جنگ کا خطرہ بہت کم ہوگیا ہے۔ اگرچہ کنٹرول لائن پر چھیڑ چھاڑ‘ پراکسی جنگ اور داؤ پیچ چلتے رہیں گے لیکن براہ راست جنگ کا مہیب سایہ میرے خیال سے کافی دور ہٹ گیا ہے۔ اس کی وجہ بھارت کے عزائم اور نیت میں تبدیلی نہیں بلکہ اس کی بیرونی اور اندرونی مجبوریاں ہیں۔ انہی کے ساتھ سیاسی عدم ضرورت بھی۔ انہی کے باعث مودی حکومت چاہتی ہے کہ وہ خواہ عوام میں اپنا سخت تاثر بنائے رکھے لیکن درون خانہ اپنے مؤقف میں اتنی نرمی لے آئے کہ کسی حد تک رابطے اور راستے بحال ہو سکیں۔ بھارتی حکومت کی مجبوریاں اپنی جگہ لیکن ان کے ساتھ ایک اور اہم سچائی ہے۔ مودی حکومت ہمیشہ انتخابات جیتنے ا ور سیاسی فائدیاٹھانے کے لیے پاکستان سے جنگ کا ڈول ڈالتی ہے‘ اور ہمیشہ اس حکمت عملی کا انتخابی فائدہ بھی ہوتا ہے۔ اب کوئی نئے انتخاب سامنے نہیں ہیں اس لیے مودی حکومت کو ضرورت بھی نہیں ہے کہ وہ جنگ کا طبل بجائے۔ کیا آپ نے سوچا کہ یہ اچانک کیا ہوا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مکالمے کی فوری ضرورت اور رابطے بحال کرنے کی باتیں ہونے لگیں؟ مزید حیرت یہ کہ یہ آوازیں سب سے پہلے بھارت کے انتہا پسند حلقوں کی طرف سے اٹھی ہیں۔ کولمبو سری لنکا میں غیر سرکاری یا یوں کہہ لیجیے کہ نیم سرکاری وفود کی بات چیت بھی ہوئی۔ یہ خبریں بھی آئیں کہ سندھ طاس معاہدہ بحال کرنے اور پاکستانی فضائی حدود کھولنے پر گفتگو ہو رہی ہے۔ بھارت نے یہ کہا ہے کہ بات چیت سرکاری سطح پر نہیں ہو رہی لیکن اس نے بات چیت کا انکار نہیں کیا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ مئی 2025ء کے بعد کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو اصل مجبوریاں بھارت کی نظر آتی ہیں۔ پاکستان پر معاشی دباؤ اپنی جگہ اور سیاسی اور اندرونی خلفشار سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ معاملات مئی 2025ء کی نسبت بہتر ہو چکے ہیں۔ اگر پاکستان اس وقت بھارت جیسی سات گنا بڑی طاقت سے نہیں ڈرا تو اب یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سٹرٹیجک فاتح کی حیثیت میں ابھرنے کے بعد کسی بھارتی دباؤ میں آئے گا۔ خاص طور پر تب جب سیاسی اور عسکری قیادت پہلے سے بہتر پوزیشن پر ہے۔ اس لیے پاکستان کی طرف کوئی ایسی مجبوری نظر نہیں آتی جس کے دباؤ میں وہ اپنا مؤقف تبدیل کرے بلکہ اس کے برعکس میرا خیال یہ ہے کہ پاکستان کو بھارتی مجبوریوں کا ادراک کرتے ہوئے اپنی بہتر پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر ایسی باتیں منوانی چاہئیں جو مئی 2025ء سے پہلے منوائی نہیں جا سکتی تھیں۔ یہ بھارتی مجبوریاں کیا ہیں‘ اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
بھارتی مؤقف اپنی جگہ کہ یہ معاملات صرف پاک بھارت کے بیچ ہیں لیکن اس بات پر تقریباً تمام بین الاقوامی تجزیہ کار متفق ہیں کہ عالمی طاقتیں کسی صورت جنوبی ایشیا میں جنگ نہیں چاہتی تھیں۔ اس لیے عالمی دباؤ نے بھارت کو مجبور کیا ہوا ہے۔ دوسری طرف مئی 2025ء میں دنیا کو ادراک ہوا کہ پاکستان ایک مؤثر جنگی طاقت ہے جو روایتی جنگ میں رہتے ہوئے بھی بھارت کو سخت نقصان پہنچا سکتا ہے۔ پہلی مرتبہ بین الاقوامی دفاعی تجزیوں میں یہ بات نمایاں ہوئی کہ پاکستان نے محدود وقت میں مؤثر جوابی کارروائی کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ بین الاقوامی اداروں کے مطابق جنوبی ایشیا میں ڈیٹرنس (Deterrence) کا توازن پہلے سے زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔ یہ ادراک دنیا کی بڑی طاقتوں کو اس سے پہلے بہت کم تھا؛ چنانچہ بھارت کو پاکستان کے سخت جواب نے جنوبی ایشیا میں ایک نیا فوجی توازن پیدا کیا۔ بھارت نے دنیا بھر میں اپنے جو وفد بھیجے تاکہ پاکستان کے خلاف رائے حاصل کی جا سکے‘ اُس کا فائدہ نہیں ہوا۔ یہ ایک سفارتی شکست تھی اور اس نے بھارت پر دباؤ بڑھا دیا۔ اسی دوران پاکستان کی سفارتی کامیابیوں اور امریکہ‘ روس‘ چین اور دیگر عالمی طاقتوں کے قریب ہو جانے نے بھارت کو ایک کونے میں دھکیل دیا۔ یہ عالمی دباؤ بھارت کے لیے نیا تھا ورنہ بھارت کی اہمیت عالمی ممالک میں تسلیم شدہ تھی لیکن اس سوا سال میں پاکستان نے تیزی سے اپنا قد بڑھایا اور امریکہ‘ ایران جنگ میں ثالث کا کردار ادا کرکے دنیا کی پسندیدگی حاصل کی؛ چنانچہ حالات مئی 2025ء کے حالات سے یکسر مختلف نظر آتے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں عالمی دنیا سے پاکستان کے خلاف محاذ آرائی میں بھارت کو حمایت نہیں مل سکتی۔
دوسرا دباؤ عسکری ہے۔ مئی میں بھارت کے زبردست نقصان کو اگرچہ چھپانے کی پوری کوشش کی گئی لیکن دنیا بھر میں اور خود بھارت میں اس کا چرچا مسلسل جاری ہے۔ عسکری حلقوں نے خود ان طیاروں کے نقصانات کا اعتراف کیا۔ حال ہی میں مئی 2025ء میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکتوں کے اعتراف اور ان کے ناموں نے یہ نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ راج ناتھ نے اُن دنوں پارلیمنٹ میں یہ کیوں کہا تھا کہ بھارت کا کوئی فوجی نقصان نہیں ہوا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اب بھی حقائق پوری طرح بیان نہیں کیے جا رہے۔ بھارتی فضائیہ کی خاص طور پر جو بھد اڑی اور جسے اعلیٰ افسر لفظوں کے بیچ چھپانے کی کوشش کرتے رہے‘ اس سے فوج کا مورال بہت نیچے آیا۔ اسی سے جڑا ہوا ایک معاملہ بھارتی فضائیہ کی موجودہ کمزوریاں ہیں جو مئی 2025ء کے بعد بہت کھل کر سامنے آ چکی ہیں۔ اس صورتحال میں آئی اے ایف کسی نئی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ دوسری طرف پاکستان چینی جے 35 سٹیلتھ طیارے حاصل کر رہا ہے اور میزائل پروگرام بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ طاقتیں جوہری طاقت کے ساتھ اضافی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بھارت کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ آئندہ کسی بڑی عسکری کارروائی کی قیمت پہلے سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
اس صورتحال کا اندازہ صرف سیاسی اور فوجی حلقوں کو نہیں بلکہ معاشرے کے دوسرے طبقات کو بھی ہے۔ آر ایس ایس کے سیکرٹری جنرل دتاتریہ ہوسابلے کا یہ بیان کہ پاک بھارت مذاکرات شروع ہونے چاہئیں‘ ایک اشارہ محسوس ہوتا ہے جو بھارتی حکومت کے ایما پر دیا گیا ہے۔ ورنہ آر ایس ایس جیسی مسلم و پاکستان دشمن جماعت کے نظریات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسی طرح حالیہ دنوں متعدد ممتاز پاکستانی اور بھارتی شخصیات نے دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں‘ سفارتی روابط بحال ہوں اور اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں۔ اس اپیل میں دونوں ممالک کے سابق سیاستدان‘ دانشور اور سماجی رہنما شامل تھے‘ جو اس بات کی علامت ہے کہ سول سوسائٹی کی سطح پر بھی جنگ کے بجائے مکالمے کی خواہش موجود ہے۔ لیکن بھارتی مؤقف کی تبدیلی میں سیاسی‘ فوجی‘ اور عالمی دباؤ کے ساتھ ساتھ بہت اہم وجہ معاشی دباؤ بھی ہے۔
Load/Hide Comments

