نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ رمیٹیوڈ آرتھرائٹس کے ہزاروں مریض ایک ایسی خطرناک پھیپھڑوں کی بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں، جس کی بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق رمیٹیوڈ آرتھرائٹس ایک خودکار مدافعتی (آٹو امیون) بیماری ہے، جو عموماً جوڑوں میں درد، سوجن اور اکڑاؤ کا باعث بنتی ہے۔ تاہم۔ نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ بیماری پھیپھڑوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق بعض مریض رمیٹیوڈ آرتھرائٹس سے وابستہ انٹرسٹیشل لنگ ڈیزیز میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں پھیپھڑوں میں سوزش اور داغ پڑنے لگتے ہیں، جس سے سانس لینے میں شدید دشواری پیش آ سکتی ہے۔
طبی جریدے دی لانسیٹ ریسپائریٹری میڈیسن میں شائع ہونے والی بین الاقوامی ماہرین کی رپورٹ میں اس بیماری کے خطرے سے متعلق اہم عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف اور نیشنل جیوش ہیلتھ کے انٹرسٹیشل لنگ ڈیزیز پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جوشوا سولومن کے مطابق رمیٹیوڈ آرتھرائٹس صرف جوڑوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ پھیپھڑوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جس سے مریض کی صحت اور معیارِ زندگی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ رمیٹیوڈ آرتھرائٹس کے ہر چھ میں سے ایک مریض میں پھیپھڑوں کی کسی نہ کسی قسم کی خرابی پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ ہر دس میں سے ایک مریض آر اے-آئی ایل ڈی کا شکار ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس بیماری کی بروقت تشخیص ہو جائے تو سوزش کم کرنے، پھیپھڑوں میں داغ بننے کے عمل کو سست کرنے اور سانس کی صلاحیت برقرار رکھنے والی ادویات کے ذریعے اس کا مؤثر علاج ممکن ہے۔

