کوئٹہ (این این آئی)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے زیارت میں نو افراد کی شہادت پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ زیارت میں مزید 9 بے گناہ افراد کی لاشوں کی برآمدگی بلوچستان میں امن و امان کی سنگین ابتری اور شہریوں کے تحفظ میں ریاستی ناکامی کا انتہائی افسوسناک مظہر ہے۔گزشتہ شب سے اہلیانِ زیارت مسلسل یہ اطلاع دیتے رہے کہ متعدد افراد کو اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے، مگر بروقت، مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات سامنے نہ آ سکے۔ آج انہی مغوی افراد کی لاشوں کی برآمدگی نے یہ ثابت کر دیا کہ عوام کے خدشات کو مطلوبہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، جس کے نتائج انتہائی المناک صورت میں سامنے آئے۔مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ اطلاعات کے مطابق ابھی بھی متعدد افراد یرغمال ہیں اور ہر گزرتا لمحہ ان کی جانوں کے لیے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں کسی قسم کی تاخیر، غیر مؤثر حکمتِ عملی یا محض رسمی بیانات ناقابلِ قبول ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں پر لازم ہے کہ وہ فوری، مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کے ذریعے یرغمال افراد کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بنائیں۔یہ سانحہ صرف زیارت کا نہیں بلکہ پورے بلوچستان میں امن و امان کی مسلسل گرتی ہوئی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے، جہاں آئے روز بے گناہ شہری تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ایسے حالات میں عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ریاست اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی آئینی ذمہ داری مؤثر انداز میں کب ادا کرے گی؟کل ہنہ وڑک کی لاشوں کی تدفین نہیں ہوئی کہ آج زیارت میں لاشیں، اغوا اور مسلسل خونریزی۔ بلوچستان کے عوام سے جینے کا بنیادی حق بھی چھین لیا گیا ہے حکومت کی زمہ داری جنازوں می۔ شرکت نہیں ہے بلکہ انکو سیکورٹی فرائم کرنا ہے لیکن ان سب کے باجود لواحقین کا غم و غصہ سارے بلوچستان کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے یہ صوبہ مزید کوئی نئی جنگ برداشت نہیں کر پائے گی۔اگر شہریوں کے تحفظ کو فوری ترجیح نہ دی گئی اور یرغمال افراد کی بازیابی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مزید کسی بھی انسانی سانحے کی سیاسی، انتظامی اور آئینی ذمہ داری حکومت اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔بلوچستان کے عوام اب یقین دہانیوں، بیانات اور رسمی مذمتی اعلانات نہیں، بلکہ مؤثر، عملی اور نتیجہ خیز اقدامات کے منتظر ہیں۔ انسانی جانوں کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری میں مزید کوتاہی ناقابلِ قبول ہے۔

