کوئٹہ(این این آئی) گورنربلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ ہنہ اوڑک واقعہ کا حکومت نے سنجیدیگی سے نوٹس لیا ہے، بلوچستان کا رقبہ وسیع عریض ہونے کی وجہ سے دہشتگردی کی کاروائیوں میں نقصانات ہوتے ہیں، مغویوں کی بحفاظت بازیابی کیلئے آپریشن احتیاط سے کیا جارہاہے، یہ بات انہوں نے ٹراما سینٹر کوئٹہ میں ہنہ اوڑک حملے کے زخمیوں کی عیادت کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو بھی انکے ہمراہ تھے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ ہنہ اوڑک میں پیش آنے والا واقعہ افسوسناک ہے اس وقت لواحقین صدمے میں ہیں ایسی حکومت کی کوشش ہے کہ امن و امان بہتر ہو،انہوں نے کہا کہ وزیراعظم، فیلڈ مارشل کی اہمیت ہے لیکن گورنر، وزیراعلیٰ، کور کمانڈر سمیت تمام لوگ حکومتی نمائندگان ہیں جو قیام امن کے لیے حکومتی نظام کے تحت کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان انتہائی وسیع و عریض صوبہ ہے یہاں پر دو تخریب کار بھی 20لوگوں کا کام کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے مشکلات ہیں حکومت نے اپنی اولین ترجیح میں امن و امان کو رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنہ اوڑک واقعہ انتہائی دلخراش ہے اور حکومت کے لیے چیلنج ہے اس مسئلے کو انتہائی سنجیدیگی سے لیا گیا ہے حکومت کی کوشش ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آور تربیت یافتہ گوریلا ہیں حکومت مغویوں کی باحفاظت بازیابی کے لیے احتیاط سے کام لے رہی ہے جلد ہی اس حوالے سے اچھی خبر ملے گی۔

