کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کا اہم اجلاس قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، دہشت گردی کے حالیہ واقعات، شاہراہوں کی بندش، ناکہ بندی اور عوام کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں اور اراکین نے شرکت کی۔اجلاس میں ہنہ اوڑک اور زیارت میں ہونے والے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ شرکاء نے ان واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی، لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل برداشت ہے اور ایسے واقعات بلوچستان کے امن، سماجی ہم آہنگی اور استحکام پر حملہ ہیں۔اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جا رہی ہے اور موجودہ حالات انتہائی تشویشناک حد تک پہنچ چکے ہیں۔ صوبے کا شاید ہی کوئی ضلع یا شاہراہ ایسی ہو جہاں عوام خود کو مکمل طور پر محفوظ تصور کرتے ہوں۔ شہریوں کی جان و مال کو مسلسل خطرات لاحق ہیں جبکہ روزانہ کی بنیاد پر قومی شاہراہوں کی بندش، مختلف مقامات پر ناکہ بندی، مسافروں کو گھنٹوں تک مشکلات کا سامنا، ٹرانسپورٹ کی آمدورفت میں رکاوٹیں اور مال بردار گاڑیوں کو نذرِ آتش کیے جانے کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ ان حالات کے باعث بلوچستان کی تجارت، معیشت، بین الصوبائی نقل و حمل اور روزگار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ تاجر برادری، ٹرانسپورٹرز، مزدور، کسان، طلبہ اور ملازمت پیشہ افراد شدید مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ خوف و ہراس کی فضا کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں اجلاس مین کہاگیا کہ حکومت امن و امان برقرار رکھنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ریڈ زون کے علاوہ صوبے کے تمام علاقوں میں حکومت کی رٹ دکھائی نہیں دیتی اور عوام خود کو بے یار و مددگار محسوس کر رہے ہیں۔ شرکائنے کہا کہ حکومت کی اولین آئینی ذمہ داری شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، تاہم موجودہ صورتحال اس ذمہ داری کی ادائیگی میں ناکامی کی عکاسی کرتی ہے۔اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے اور شاہراہوں کو ہر قیمت پر محفوظ بنایا جائے تاکہ عوام بلا خوف و خطر سفر کر سکیں۔اجلاس میں ہنہ اوڑک اور زیارت میں جاری احتجاجی دھرنوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے دھرنوں کے شرکاء کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے جائز مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کرکے انہیں انصاف فراہم کیا جائے،حکومت طاقت کے بجائے مذاکرات اور سنجیدہ سیاسی حکمت عملی کے ذریعے مسائل کے حل کو یقینی بنائے۔اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جامع اور مؤثر حکمت عملی مرتب کی جائے، دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، قومی شاہراہوں پر عوام اور ٹرانسپورٹرز کو مکمل تحفظ فراہم،صوبے میں امن، استحکام اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح بنایا جائے۔اجلاس میں کہا گیا کہ اپوزیشن جماعتیں بلوچستان کے عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و استحکام، آئینی حقوق اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اسمبلی کے اندر اور باہر ہر جمہوری اور آئینی فورم پر مؤثر آواز بلند کرتی رہیں گی اور صوبے کے عوام کو درپیش مسائل پر کسی قسم کی خاموشی اختیار نہیں کریں گی۔

