زیارت کچ میں نامعلوم دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے ملک سیف اللہ خان کو سرکاری و فوجی اعزاز کے ساتھ سپردخاک کردیا گیا

ہرنائی(این این آئی)ضلع ہرنائی کے سرحدی علاقے زیارت کچ میں نامعلوم مسلح افراد کے ساتھ فائرنگ کے شدید تبادلے کے بعد اغوا کیے جانے والے اینٹی ٹیررسٹ فورس (ATF) کے غازی جوان ملک سیف اللہ خان عبدالانی کو مسلح افراد نے بے دردی سے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ شہید جوان کا جسدِ خاکی آبائی علاقے کلی سرکان پہنچنے پر کہرام مچ گیا۔ شہید کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاؤں کلی سرکان کے قبرستان میں ادا کرنے کے بعد، انہیں پولیس کے چاک و چوبند دستے کی سلامی اور مکمل سرکاری و فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر ہر آنکھ نم اور فضا انتہائی سوگوار تھی۔ گزشتہ رات زیارت کچ کے مقام پر نامعلوم مسلح عناصر اور اے ٹی ایف کے جوان ملک سیف اللہ خان عبدالانی کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد مسلح افراد انہیں اغوا کر کے نامعلوم مقام کی طرف لے گئے اور بعد میں انہیں فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ وطنِ عزیز کی مٹی پر اپنی جان نچھاور کرنے والے اس بہادر سپوت کی آخری رسومات میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور سیاسی قیادت نے بھرپور شرکت کر کے پسماندگان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ شہید ملک سیف اللہ خان عبدالانی کی نمازِ جنازہ میں ضلع بھر سے سیاسی، سماجی، قبائلی شخصیات اور پولیس افسران سمیت شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ملک عبدالسلام ترین (چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل ہرنائی) انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی (سپرنٹنڈنٹ آف پولیس / ایس پی ہرنائی محمد سلیم ترین (ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی) ملک حبیب اللہ ترین (ڈی ایس پی ہرنائی) محمد عمر رند (ایس ایچ او تھانہ سٹی ہرنائی) تدفین کے موقع پر ہرنائی پولیس کے چاک و چوبند دستے نے شہید کے جسدِ خاکی کو گارڈ آف آنر (سرکاری سلامی) پیش کیا، جبکہ پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے شہید کی قبر پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور ملک و ملت کے لیے ان کی قربانی کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ نمازِ جنازہ اور تدفین کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو اور تعزیتی پیغامات میں ضلعی حکام اور معززین کا کہنا تھا کہ ملک سیف اللہ خان عبدالانی کی شہادت ضلعی امن اور دفاعِ وطن کے لیے ایک عظیم قربانی ہے، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن و امان کو سبوتاڑ کرنے والے عناصر اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے اور فورسز کے جوانوں کے حوصلے اس قسم کی بزدلانہ کارروائیوں سے پست نہیں ہوں گے۔ بعد ازاں، شرکائے جنازہ نے شہید کے درجات کی بلندی، الٰہی حضور میں ان کی شہادت کی قبولیت اور سوگوار خاندان کے لیے صبرِ جمیل کی اجتماعی دعا کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں