مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کو لاحق خطرات کے پیش نظر فرانس نے خلیجی تیل کی ترسیل کے لیے شام کو متبادل راہداری کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس بات کا عندیہ فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے فرانسیسی ٹی وی چینل TF1 کو انٹرویو میں دیا۔ ان کے بول عالمی منڈیوں کو تیل اور توانائی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے متبادل توانائی راہداریوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی۔
فرانسیسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں حالیہ امریکی اور ایرانی کارروائیوں نے تیل و گیس کی عالمی ترسیل میں پھر سے رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں اس لیے فرانس ایسے متبادل راستوں پر غور کر رہا ہے جو کسی ایک بحری گزرگاہ پر انحصار کم کرسکیں۔
ژاں نوئل بارو کے بقول آبنائے ہرمز کی بندش کے آغاز سے اب تک ہماری کوششوں کا ایک اہم حصہ یہ بھی ہے کہ متبادل راستے تیار کیے جائیں تاکہ دنیا کی توانائی کی ترسیل کسی ایک مقام پر رکاوٹ کی صورت میں متاثر نہ ہو۔
تاہم فرانسیسی وزیر خارجہ نے کسی مخصوص منصوبے یا مجوزہ پائپ لائن کی تفصیلات نہیں بتائیں تاہم ان کے بیان سے اشارہ ملا کہ شام مستقبل میں خلیجی تیل کی نقل و حمل کے لیے ایک ممکنہ زمینی راہداری بن سکتا ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے شام کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، سیاسی اور علاقائی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر شام کے ذریعے توانائی کی ترسیل کا منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ نہ صرف آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کی کوشش ہوگی بلکہ شام کی علاقائی اہمیت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے امور سے واقف تجزیہ کار نے خدشہ ظاہر کہ شام میں برسوں سے جاری عدم استحکام، تباہ حال بنیادی ڈھانچے اور علاقائی سیاسی پیچیدگیوں کے باعث ایسے کسی بھی منصوبے پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی گئی ہے کیونکہ دنیا کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار اسی بحری راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے اور اس گزرگاہ کی بندش سے عالمی توانائی کی قیمتوں اور سپلائی پر نمایاں اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

