خالد مسعود خان
پاکستان کے روایتی اور امریکہ کے غیرروایتی سیاستدانوں کی حرکتیں بالکل ایک جیسی ہیں۔ پاکستانی روایتی سیاستدانوں سے میری مراد عشروں سے خاندانی طور پر سیاسی پارٹیوں اور ان کے ذریعے اقتدار پر قابض خاندان اور افراد ہیں۔ اس میں کسی پارٹی کی کوئی تخصیص نہیں۔ ایک آدھ جماعت کو چھوڑ کر باقی تمام سیاسی جماعتوں میں‘ خواہ وہ جمہوریت کا جتنا بھی دعویٰ کیوں نہ کریں‘ کوئی جمہوریت نہیں۔ مسلم لیگ (ن)‘ مسلم لیگ (ق)‘ پاکستان پیپلز پارٹی‘ جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی‘ یہ تمام پارٹیاں دو دو‘ تین تین پشتوں سے ایک ہی خاندان کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ جب سے یہ لوگ اور پارٹیاں اقتدار میں آئی ہیں‘ چھوٹی موٹی چیزیں تو رہیں ایک طرف سرکاری اداروں‘ عمارتوں‘ کھیل کے میدانوں‘ ہسپتالوں‘ یونیورسٹیوں‘ کالجوں اور دیگر اسی قسم کے عوام کے ٹیکس سے بننے والے حکومتی پراجیکٹس کے نام اپنے اپنے بزرگوں‘ بچوں حتیٰ کہ اپنے رشتہ داروں کے نام پر رکھنے کی ایک مضبوط روایت ہمارے ہاں موجود ہے۔ مغربی ممالک میں ایسی صورتحال کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ اس مسافر نے دنیا کے بہت سے ممالک گھومے ہیں لیکن کہیں بھی کسی حاضر صدر‘ وزیراعظم‘ پارلیمنٹیرینز‘ گورنرز‘ سینیٹرز یا دیگر پبلک آفس کے حامل افراد کی کوئی افتتاحی یا تکمیل کی تختی لگی ہوئی نہیں دیکھی۔ ممکن ہے ایسی کوئی تختی میری نظر سے رہ گئی ہو لیکن جتنا میں سڑکوں‘ گلیوں‘ بازاروں‘ پارکوں اور شہروں میں گھوما ہوں اگر کوئی ایسی نمایاں چیز لگی ہوتی تو یقینا دکھائی دیتی۔ ادھر امریکہ اور یورپ میں کھلاڑیوں‘ فنکاروں‘ ادیبوں‘ دانشوروں اور کسی شعبے میں نمایاں مقام رکھنے والے افراد کے نام پر ایسی تختیاں‘ مجسمے اور پلیٹیں دکھائی دیتی ہیں۔ ہاں البتہ سابقہ صدور یا سابقہ وزرائے اعظم جن کی بہت نمایاں خدمات ہیں‘ اس سلسلے میں ان کا نام کئی جگہ پر دکھائی دیتا ہے۔ لیکن حاضر سروس حکمرانوں کی تختیاں‘ مجسمے یا سنگ مرمر کی کتبے کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ تاہم اب امریکہ میں غیر روایتی یا غیرسیاسی پس منظر کا حامل صدر ٹرمپ تقریباً وہی کچھ کر رہا ہے جو ہمارے ہاں روایتی‘ قدیمی خاندانی سیاستدان کر رہے ہیں۔ یہ ٹرمپ کا آخری دور ہے اور وہ اس دور کو اپنے نام کی تشہیر کی خاطر آئندہ نسل کو دکھانے کی غرض سے بہت سے مقامات‘ اداروں اور دیگر جگہوں پر اپنے نام کی مہر ثبت کرنا چاہتا ہے۔ کچھ میں اسے ناکامی ہوئی ہے اور کچھ میں جزوی کامیابی بھی ملی ہے۔ لیکن دوسری طرف امریکی قانون اور عدالتیں اس سلسلے میں کافی فعال ہیں اور صدر ٹرمپ کے ایسے تمام خلاف از قانون اقدامات کا سدباب کر رہی ہیں۔ باوجود اس کے کہ امریکن سپریم کورٹ کے نو میں سے چھ جج ریپبلکن ہیں۔ ریپبلکن سے مراد یہ نہیں کہ یہ جج ریپبلکن پارٹی کے رکن یا رہنما ہیں بلکہ ان کی تعیناتی ریپبلکن دورِ اقتدار میں ہوئی ہے اور حالیہ برسر اقتدار پارٹی کے صدور کے فائز کردہ جج ہیں۔ تاہم ان کی تقرری کے پیشِ نظر ان کی عدالتی خدمات اور بطور لبرل یا قدامت پسند نظریات ضرور ہوتے ہیں۔ امریکی سپریم کورٹ کے موجودہ نو ججوں میں سے چھ جج بمعہ چیف جسٹس ریپبلکن ہیں اور تین جج ڈیموکریٹ ہیں۔ لیکن اس واضح تقسیم کے باوجود بہرحال قانون اور آئین کی کسی حد تک پاسداری ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے جان ایف کینیڈی سنٹر فار پرفارمنگ آرٹ کا نام تبدیل کر کے اسکا نام جان ایف کینیڈی ٹرمپ سنٹر فار پرفارمنگ آرٹ کر دیا‘ تاہم نام کی اس تبدیلی کو عدالت نے مسترد کر دیا اور کہا کہ سرکاری عمارت کا نام باقاعدہ قانون سازی کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا‘ لہٰذا اس کا نام دوبارہ جان ایف کینیڈی سنٹر فار پرفارمنگ آرٹ کر دیا جائے‘ اور وہ کر دیا گیا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کو بھی خلافِ قانون قرار دے کر منسوخ کر دیا ہے جس میں صدر ٹرمپ نے امریکہ میں پیدا ہونیوالے غیر امریکی شہریوں کے بچوں کی امریکی شہریت کو ختم کرنے کا حکمنامہ جاری کیا تھا۔ جن چھ ججوں نے اس حکم کو منسوخ کیا ان میں سے دو جج وہ تھے جن کا تقرر خود صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی ٹرم کے دوران کیا تھا۔ اسی طرح صدر ٹرمپ نے پاسپورٹ پر اپنی تصویر چھاپنے کا ارادہ ظاہر کیا اور اس میں صدر کو بہرحال جزوی کامیابی ہوئی اور واشنگٹن پاسپورٹ ایجنسی نے امریکہ کی آزادی کی 250ویں سالگرہ کے حوالے سے ایک یادگاری پاسپورٹ جاری کرنے کا اعلان کیا ہے جس پر صدر ٹرمپ کی تصویر ہو گی۔ لیکن یہ مستقل پاسپورٹ نہیں ہو گا۔ یہ اسی سال محدود تعداد میں یادگاری پاسپورٹ جاری کیے جائیں گے۔ جیسے یادگاری سکے جاری کیے جاتے ہیں۔ یہ پاسپورٹ عام امریکی پاسپورٹ کی جگہ نہیں لے رہا بلکہ صرف ایک خصوصی یادگاری ایڈیشن ہے جسے محدود مدت اور محدود تعداد میں جاری کیا جا رہا ہے۔ جبکہ عام درخواست دہندگان کو بدستور روایتی ڈیزائن والا پاسپورٹ ملتا رہے گا۔ یہ یادگاری سکوں کی مانند صرف ایک خاص تعداد میں ہی جاری ہوں گے اور اس کے بعد یہ سلسلہ بند ہو جائے گا۔ اسی طرح صدر ٹرمپ نے پام بیچ ایئرپورٹ کا نام وہاں کی قانون ساز اسمبلی کی منظوری سے ٹرمپ انٹرنیشنل ایئرپورٹ رکھوا لیا ہے۔
اسی طرح صدر ٹرمپ نے امریکہ کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کو جواز بناتے ہوئے 250 ڈالر کا اپنی تصویر والا نوٹ جاری کروانے کا ارادہ بھی کیا اور اس سلسلے میں کوشش بھی کی۔ لیکن یہ منظور نہ ہو سکا کیونکہ روایتی طور پر امریکہ کی کسی بھی ایسی شخصیت کی نوٹ پر تصویر نہیں چھپ سکتی جو زندہ ہے۔ یہ محض روایتی معاملہ نہیں بلکہ اس سلسلے میں امریکی کانگریس اور سینیٹ نے باقاعدہ قانون سازی کی ہوئی ہے۔ امریکہ میں سات مختلف مالیت کے نوٹ ہیں۔ ایک ڈالر کے نوٹ پر جارج واشنگٹن کی تصویر ہے جو امریکہ کے پہلے صدر اور جنگ آزادی کے سپہ سالار تھے۔ دو ڈالر کے نوٹ پر امریکی صدر تھامس جیفرسن کی تصویر ہے جو ”یونائیٹڈ سٹیٹ ڈیکلیریشن آف انڈیپنڈنس‘‘ کا مرکزی مصنف تھا۔ پانچ ڈالر کے نوٹ پر سابق امریکی صدر ابراہم لنکن کی تصویر ہے۔ جو امریکی خانہ جنگی کے دوران صدر تھے اور اس دوران غلامی کے خاتمے اور ملک کو متحد رکھنے میں کلیدی کردار انجام دیا۔ دس ڈالر کے نوٹ پر الیگزینڈر ہملٹن کی تصویر ہے جو امریکی صدر نہیں تھے بلکہ امریکی مالیاتی نظام‘ قومی بینک اور محکمۂ خزانہ کی بنیاد رکھنے والے اہم رہنما تھے۔ بیس ڈالر کے نوٹ پر ساتویں امریکی صدر اور جنگی ہیرو اینڈریو جیکسن کی تصویر ہے۔ 50ڈالر کے نوٹ پر یونین فوج کے کمانڈر اور بعد ازاں صدر بننے والے یولیسز ایس گرانٹ کی تصویر ہے۔ جبکہ سو ڈالر کے نوٹ پر بینجمن فرینکلن کی تصویر ہے جو امریکہ صدر نہیں بلکہ سائنسدان‘ سفارتکار‘ موجد اور امریکہ کے بانی رہنماؤں میں شامل تھے۔ یعنی سات مختلف مالیت کے کرنسی نوٹوں کی تصاویر میں دو شخص امریکی صدر نہیں تھے۔ تاہم جن پانچ امریکی صدور کی تصاویر کرنسی نوٹوں پر چھپی ہیں‘ وہ کسی نہ کسی حوالے سے امریکی تاریخ میں نمایاں مقام کے حامل تھے۔ 1866ء میں امریکی کانگریس نے یہ قانون پاس کر دیا کہ کسی زندہ شخص کی تصویر امریکی کرنسی نوٹ پر نہیں چھپ سکتی۔ اس قانون کو بنے 160 سال گزر چکے اور اس پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ اس دوران کسی صدر نے کرنسی نوٹوں پر اپنی تصویر شائع کروانے کی کوشش نہیں کی۔ ہاں! البتہ صدرٹرمپ کو اس سلسلے میں استثنیٰ ہے۔
ہمارے ہاں یا تو از خود نوٹس کو مذاق بنا کر رکھ دیا گیا یا اب اس کا دروازہ تقریباً بند کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ یعنی اعتدال کی صورتحال کبھی بھی نہیں رہی۔ پہلے ایسی تختیاں صرف سنگ بنیاد یا افتتاح کے سلسلے میں لگتی تھیں تاہم اب یہ معاملہ کہیں آگے نکل گیا ہے اور اب ہمارے حکمرانوں نے سرکاری اداروں‘ ہسپتالوں‘ عمارتوں‘ تعلیمی اداروں اور عوامی مفادِ عامہ کی جگہوں کے نام اپنے نام پر‘ اپنے ابا جی کے نام پر‘ اپنی والدہ محترمہ کے نام پر رکھنے کی بدعت ایجاد کر دی ہے اور اب اس قسم کے ناموں کا جمعہ بازار لگ گیا ہے۔
Load/Hide Comments

