کوئٹہ (این این آئی) جمعیت علماء اسلام کے رہنما حافظ منیر حسین احمد نے کہا ہے کہ بلوچستان جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا نصف حصہ ہے آج بدامنی اور خونریزی کا شکار ہوچکا ہے بلوچستان اس وقت خون سے لت پت ہوچکا ہے، جہاں بے گناہ انسانوں کا قتل ایک سنگین صورتحال اختیار کرگیا ہے۔ اپنے بیان میں حافظ منیر حسین احمد نے کہا کہ بلوچستان ایک آتش فشاں بن چکا ہے جس میں مسلسل بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں مگر حکمرانوں کی توجہ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے وسائل پر مرکوز ہے، انہوں نے کہا کہ جب کسی خطے کے مسائل حل کرنے کے بجائے صرف وہاں کے قدرتی وسائل پر نظر رکھی جائے گی تو حالات میں بہتری نہیں آسکتی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام طویل عرصے سے بنیادی مسائل، محرومیوں اور امن و امان کی خراب صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں بلوچستان میں حکومت کی رٹ کمزور نظر آ رہی ہے قانون کی عملداری کو مضبوط کرنے کی فوری ضرورت ہے کیونکہ عوام کو تحفظ اور انصاف فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، جے یو آئی رہنما نے کہا کہ ماضی میں دعوے کیے گئے کہ بلوچستان کے حالات چند اقدامات سے بہتر کر دیے جائیں گے لیکن آج صورتحال سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام جن سیاسی اور سماجی رہنماؤں کی آواز سنتے ہیں انہیں دیوار سے لگانے کے بجائے اعتماد میں لیا جائے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جائے۔ حافظ منیر حسین احمد نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام، عوامی حقوق کے تحفظ اور محرومیوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں کیونکہ طاقت کے بجائے انصاف اور اعتماد ہی مسائل کا مستقل حل ہے۔

