تحریر: محمدمظہررشید چودھری (03336963372)
ریاست اور شہری کے درمیان تعلق کی بنیاد صرف آئین اور قانون نہیں بلکہ اعتماد بھی ہوتا ہے۔ اس اعتماد کی سب سے بڑی علامت ٹیکس ہے۔ شہری اپنی آمدنی کا ایک حصہ ریاست کو اس یقین کے ساتھ دیتا ہے کہ اس کے بدلے اسے بہتر تعلیم، معیاری صحت، محفوظ سڑکیں، انصاف اور بنیادی سہولتیں میسر آئیں گی۔ لیکن جب ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا جائے، عوامی خدمات میں بہتری نظر نہ آئے اور ٹیکس کی تقسیم غیر منصفانہ محسوس ہونے لگے تو سوال جنم لیتا ہے کہ کیا ہمارا ٹیکس نظام واقعی انصاف کے تقاضے پورے کر رہا ہے؟پاکستان میں ہر بجٹ کے موقع پر محصولات میں اضافے کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے پاکستان اکنامک سروے کے مطابق ملکی معیشت نے گزشتہ برس کے مقابلے میں بہتری دکھائی اور حقیقی شرح نمو تقریباً 3.7 فیصد رہی۔ اسی دوران حکومت نے ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ کیا اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں بہتری کا دعویٰ کیا۔ یہ پیش رفت بظاہر حوصلہ افزا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ یہ محصولات کس سے وصول کیے جا رہے ہیں اور ان کا بوجھ کس طبقے پر زیادہ پڑ رہا ہے؟پاکستان کا ٹیکس نظام کئی دہائیوں سے بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کرتا آیا ہے۔ اگرچہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے مطابق حالیہ برسوں میں براہ راست ٹیکسوں کا حصہ بڑھا ہے، لیکن جنرل سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کسٹمز ڈیوٹی، پٹرولیم لیوی اور مختلف سرچارجز آج بھی قومی محصولات کا اہم ذریعہ ہیں۔ ان ٹیکسوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی ادائیگی آخرکار صارف کرتا ہے، خواہ وہ ایک دیہاڑی دار مزدور ہو یا کروڑوں روپے کمانے والا سرمایہ کار۔ایک غریب مزدور جب صبح چائے پیتا ہے، بچوں کے لیے دودھ خریدتا ہے، صابن، ٹوتھ پیسٹ یا دیگر گھریلو اشیا لیتا ہے تو ان کی قیمت میں شامل بالواسطہ ٹیکس بھی ادا کرتا ہے۔ جب وہ موبائل فون ری چارج کرتا ہے، بجلی یا گیس کا بل جمع کراتا ہے یا بس میں سفر کرتا ہے تو مختلف ٹیکس اور سرکاری چارجز اس کی جیب سے ادا ہوتے ہیں۔ شاید اسے ان تمام ٹیکسوں کی تفصیل معلوم نہ ہو، مگر وہ انہیں روزانہ ادا کر رہا ہوتا ہے۔بجلی کے بل اس کی واضح مثال ہیں۔ بجلی کی اصل قیمت کے علاوہ جنرل سیلز ٹیکس، مختلف سرچارجز، ڈیوٹیز اور دیگر واجبات شامل ہو کر بل کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ یہی صورت حال گیس، ٹیلی کمیونیکیشن اور متعدد دیگر خدمات کی بھی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور دیگر محصولات کا اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے ذریعے پوری معیشت میں منتقل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً مہنگائی کا سب سے بڑا بوجھ انہی گھرانوں پر پڑتا ہے جن کی آمدنی پہلے ہی محدود ہوتی ہے۔تنخواہ دار طبقے کی صورت حال اس سے بھی مختلف ہے۔ اس کی آمدنی سے انکم ٹیکس منبع پر ہی کاٹ لیا جاتا ہے اور اس میں ٹیکس چوری کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ایف بی آر کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس ادائیگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ معیشت کے بعض دیگر شعبے اب بھی اپنی حقیقی مالی استعداد کے مطابق قومی خزانے میں حصہ نہیں ڈال رہے۔یہی پاکستان کے ٹیکس نظام کا بنیادی تضاد ہے۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جس سے ٹیکس وصول کرنا آسان ہے، اس لیے اس پر بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ایسے شعبے بھی موجود ہیں جہاں کم ظاہر کی گئی آمدنی، غیر دستاویزی کاروبار، غیر رسمی معیشت اور مختلف قانونی رعایتیں محصولات کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) بھی متعدد مواقع پر پاکستان میں ٹیکس بیس کو وسیع کرنے اور استثنیٰ ختم کرنے کی ضرورت پر زور دے چکا ہے۔پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب اب بھی تقریباً 10 فیصد کے آس پاس ہے، جو ترقی پذیر معیشتوں کے لیے بھی بہت زیادہ اطمینان بخش نہیں سمجھا جاتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستانی عوام کم ٹیکس دیتے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ریاست ابھی تک معیشت کے تمام قابل ٹیکس شعبوں کو مؤثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں کر سکی۔ چنانچہ محصولات بڑھانے کے لیے نسبتاً آسان راستہ یہی اختیار کیا جاتا ہے کہ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے طبقے یا عام صارف پر مزید بوجھ ڈال دیا جائے۔یہ صورت حال صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی انصاف کا سوال بھی ہے۔ اگر ایک غریب مزدور اور ایک کروڑ پتی ایک ہی چیز خریدتے وقت یکساں سیلز ٹیکس ادا کرتے ہیں تو قانونی طور پر تو دونوں برابر ہیں، لیکن معاشی اعتبار سے یہ مساوات نہیں بلکہ عدم مساوات ہے، کیونکہ کم آمدنی والا شخص اپنی آمدنی کا کہیں بڑا حصہ بنیادی ضروریات پر خرچ کرتا ہے۔معاشی ماہرین کی رائے بھی اسی جانب اشارہ کرتی ہے۔ ورلڈ بینک اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مختلف رپورٹس کے مطابق بالواسطہ ٹیکس نسبتاً کم آمدنی والے گھرانوں پر زیادہ اثر ڈالتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک، ٹرانسپورٹ، توانائی اور دیگر بنیادی ضروریات پر خرچ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے یہی ٹیکس ان کی مجموعی آمدنی کا نسبتاً چھوٹا حصہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے دنیا کی کامیاب معیشتیں براہ راست ٹیکسوں کو مضبوط اور بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کو محدود کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔پاکستان میں مسئلہ صرف ٹیکس کی شرح کا نہیں بلکہ ٹیکس کے دائرہ کار کا بھی ہے۔ غیر رسمی معیشت کا حجم اب بھی بہت بڑا ہے۔ لاکھوں کاروبار مکمل یا جزوی طور پر دستاویزی نظام سے باہر ہیں۔ ریئل اسٹیٹ، ہول سیل اور ریٹیل تجارت، بعض خدمات اور دیگر شعبوں میں حقیقی آمدنی اور ٹیکس ادائیگی کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کی تعداد آبادی کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہے۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ حکومت نے حالیہ برسوں میں ٹیکس انتظامیہ کو ڈیجیٹل بنانے، پوائنٹ آف سیل نظام، ٹریک اینڈ ٹریس، ای فائلنگ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں جیسے اقدامات کیے ہیں۔ یہ اصلاحات درست سمت میں پیش رفت ہیں، مگر ان کی کامیابی کا انحصار شفاف عمل درآمد، غیر جانبدار احتساب اور سیاسی عزم پر ہے۔ اگر قانون کا اطلاق صرف کمزور طبقے تک محدود رہے اور طاقتور مفادات بدستور استثنیٰ سے لطف اندوز ہوتے رہیں تو اصلاحات کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کو محصولات کی اشد ضرورت ہے۔ بڑھتے ہوئے قرضے، دفاعی اخراجات، ترقیاتی منصوبے، صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے پروگرام اسی قومی خزانے سے چلتے ہیں۔ اس لیے ٹیکس دینا ہر شہری کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ریاست کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ ٹیکس وصولی انصاف، شفافیت اور مساوات کے اصولوں کے مطابق ہو۔ جب عوام دیکھیں گے کہ ان کے ادا کیے گئے ٹیکس بہتر ہسپتال، معیاری سرکاری سکول، محفوظ شاہراہیں اور قابلِ اعتماد شہری سہولتوں کی صورت میں واپس آ رہے ہیں تو رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کا رجحان بھی مضبوط ہوگا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس اصلاحات کو صرف محصولات بڑھانے کی مشق نہ سمجھا جائے بلکہ اسے معاشی انصاف کے منصوبے کے طور پر دیکھا جائے۔ سب سے پہلے ٹیکس بیس کو حقیقی معنوں میں وسیع کیا جائے تاکہ ہر وہ شخص اور ہر وہ شعبہ، جو ٹیکس ادا کرنے کی مالی استطاعت رکھتا ہے، قانون کے مطابق اپنا حصہ قومی خزانے میں جمع کرائے۔ غیر ضروری ٹیکس چھوٹ اور مراعات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے، ایف بی آر کو مزید خودمختار اور جواب دہ بنایا جائے، اور ٹیکس قوانین کو اتنا آسان بنایا جائے کہ عام کاروباری شخص بھی بلا خوف و ہراس نظام کا حصہ بن سکے۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر مالی مسئلے کا حل بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ نہیں ہو سکتا۔ اگر بجٹ خسارے کا بوجھ بار بار بجلی، گیس، ایندھن اور روزمرہ استعمال کی اشیا پر ڈال دیا جائے گا تو مہنگائی کا دباؤ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھے گا، جس کا سب سے زیادہ نقصان کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کو ہوگا۔ ایک مضبوط معیشت اسی وقت وجود میں آتی ہے جب ٹیکس پالیسی ترقی، سرمایہ کاری اور سماجی انصاف کے درمیان متوازن رشتہ قائم کرے۔پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں معاشی استحکام اور عوامی اعتماد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ٹیکس کا نظام منصفانہ ہوگا تو محصولات بھی بڑھیں گے، سرمایہ کاری بھی فروغ پائے گی اور ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔ لیکن اگر بوجھ کا بڑا حصہ ہمیشہ انہی کندھوں پر رکھا جاتا رہا جو پہلے ہی مہنگائی اور کم آمدنی سے نڈھال ہیں، تو معاشی اصلاحات کے ثمرات دیرپا ثابت نہیں ہوں گے۔ریاست کی کامیابی اس میں نہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصول کرے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ منصفانہ ٹیکس وصول کرے۔ جب طاقتور اور کمزور، دونوں قانون کے سامنے برابر ہوں گے اور ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق قومی ذمہ داری ادا کرے گا، تبھی پاکستان ایک مضبوط، مستحکم اور انصاف پر مبنی معیشت کی طرف بڑھ سکے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف قومی خزانے کو مضبوط کرے گا بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی بحال کرے گا، اور یہی کسی بھی کامیاب ریاست کی اصل بنیاد ہے٭

