رؤف کلاسرا
بہت لوگ پوچھتے ہیں کہ کابینہ میں کیا تبدیلیاں ہو رہی ہیں؟ کون آ رہا ہے اور کون جا رہا ہے؟ اب کس کا سورج ڈوبنے اور کس کا طلوع ہونے والا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو میں 2002ء کے بعد سے اکثر سنتا رہتا ہوں۔ کبھی اس سوال کا جواب ڈھونڈنے یا جواب دینے میں جو جوش و جذبہ ہوتا تھا‘ وہ وقت کے ساتھ ساتھ دم توڑ گیا۔ مجھے ان برسوں میں ایک پیٹرن سمجھ میں آ گیا کہ ہر حکومت کو دو تین سال کے بعد کیوں وزیر تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے یا اس بارے میں خبریں پھیلنا یا پھیلانا شروع کی جاتی ہیں۔ پہلے تو یہی سمجھتا تھا کہ اس مشق کا مقصد واقعی بری کارکردگی والے وزیروں کو گھر بھیج کر سبق سکھانا ہے کہ وہ ڈِلیور نہیں کر سکے اور ان کی جگہ نئے وزیر لائے جائیں گے۔ اس پورے عمل میں دو تین ماہ کا وقت لگتا تھا کہ تمام وزیر اچانک متحرک ہو جاتے تھے‘ وہی وزیر جو کئی کئی ماہ پارلیمنٹ کے وقفۂ سوالات میں نظر نہیں آتے تھے اور اپنی جگہ اپنی وزارت کے پارلیمانی سیکرٹری کو بریف کر کے ہاؤس میں بھیج دیتے تھے کہ یار تم ہی سنبھال لو یہ کون سا ایسا کام ہے جس کیلئے میرا ہاؤس میں ہونا ضروری ہے۔ وہ اب خود ہاؤس میں روز بیٹھنا شروع کر دیتے ہیں۔ پہلے وہی وزیر کمیٹی اجلاسوں میں وزیرِ مملکت کو بھیج دیتے تھے یا سیکرٹری کے ذریعے کہلوا بھیجتے کہ وزیر صاحب کو اچانک وزیراعظم نے بلا لیا ہے۔ یہ بڑا مشہور اور مستند بہانہ ہے جو اکثر کمیٹی اجلاسوں میں وزیر صاحبان کے نہ آنے پر وزارت کا سیکرٹری اجلاس کے سینیٹرز یا ایم این ایز کے سامنے پیش کرتا ہے۔آج بھی یہی بہانہ چلتا ہے اور چیئرمین کمیٹی دب جاتا ہے کہ وزیراعظم کے نام پر وہ بھلا کیا کہے کہ وہ ان سے ملنے کیوں چلا گیا اور اس اہم اجلاس میں شریک نہیں ہوا جس کا نوٹس ایک ماہ پہلے سے دیا گیا تھا۔ کسی سینیٹر یا کمیٹی چیئرمین نے بھی وزیراعظم ہاؤس سے کبھی چیک کرنے کی زحمت نہیں کی آیا کہ وزیراعظم نے وزیر کو واقعی بلوا لیا تھا یا ممبران کو گولی دی گئی۔
اب تو قومی اسمبلی میں ہر دوسرے روز کورم کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور ہاؤس کی کارروائی معطل ہو جاتی ہے۔ کچھ ارکان سے پوچھا تو ہنس کر کہنے لگے: رؤف صاحب ہم سے تو پوچھ رہے ہیں‘ ذرا وزیراعظم صاحب سے بھی پوچھیں‘ وہ کتنی دفعہ اس سال اجلاس میں شریک ہوئے یا جنہیں انہوں نے وزیر‘ ڈپٹی وزیر یا پارلیمانی سیکرٹری بنا رکھا ہے وہ ہاؤس میں موجود رہیں تو بھی اجلاس معطل نہیں ہوگا۔ یوں جو وزیر بن جاتے ہیں وہ اس لیے ہاؤس کو سنجیدہ نہیں لیتے کہ بھلا اب ان کا کیا کام۔ جب وزیراعظم خود پورا سال پارلیمنٹ سے دور رہے گا تو پھر وزیروں کو کیا ڈر۔ وہی بات کہ کسی دفتر کا افسر اگر صبح نو بجے اپنے دفتر موجود ہوگا تبھی ملازم نو بجے پہنچیں گے۔ اگر افسر ہی گیارہ بجے آئے گا یا بالکل نہیں آئے گا تو وہ اخلاقی جواز کھو بیٹھتا ہے۔ اس لیے جو ارکان وزیر نہیں بن سکتے‘ وہ دھیرے دھیرے حکومت سے کورم کا مسئلہ پیدا کر کے بدلہ لیتے ہیں۔ اب تبدیلی کی خبروں کے ساتھ وزیر ایکٹو ہو جائیں گے۔ یہی وزیر اب باخبر صحافیوں کو فون کر کے پوچھیں گے کہ ان کا نام تو اس فہرست میں شامل نہیں ہے جنہیں ہٹانا ہے۔ جو وزیر بننا چاہتے ہیں‘ وہ بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے دوست صحافیوں کے ذریعے خبریں لگوائیں گے یا ٹکر چلے گا کہ فلاں کا نام بھی وزارت کیلئے سوچا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد وزیراعظم یا ان کے قریبی حلقے تک پیغام پہنچانا ہے: ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں۔ اس دوران جو زیادہ سنجیدہ اور سمجھدار ہوتے ہیں وہ وزیراعظم کے خاندان کے لوگوں کو اپروچ کرتے ہیں یا بڑے گھر کی سفارشیں کام آتی ہیں۔ خود وزیراعظم کو نئے سرے سے اپنے وزیروں سے حلفِ وفاداری لینے کا موقع مل جاتا ہے۔ پارٹی لیڈر بھی ایکٹو ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ کون جائے گا اور کون بچے گا۔ یوں پوری حکومت کا فوکس‘ اور اس سے بڑھ کر میڈیا اور پورے ملک کی توجہ اس ایشو پر ہو جاتی ہے کہ کابینہ میں تبدیلی کب اور کیسے ہو رہی ہے۔ ٹی وی چینلز کے پروگرامز اور سوشل میڈیا بلکہ میرے جیسے کالم نگاروں کو بھی نیا موضوع مل جاتا ہے اور توجہ حکومت کی نااہلی اور کرپشن سے ہٹ کر چند وزیروں کی تبدیلی پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اگر دو وزیروں کو ہٹایا بھی جاتا ہے تو انہیں صرف ایک وزارت سے ہٹا کر دوسری وزارت میں بھیج دیا جاتا ہے۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ اگر ایک وزیر کسی ایک وزارت میں کام نہ کر سکا تو دوسری وزارت میں کیا کر لے گا؟ اس دوران ایک دو نئے سفارشی چہرے بھی کابینہ میں ڈال دیے جاتے ہیں اور اس کے ساتھ لوگوں اور میڈیا کو پیغام چلا جاتا ہے کہ دیکھنا اب وزیراعظم اور ان کی ٹیم کیسی توپ چلاتی ہے جو پچھلے دو تین سالوں میں نہیں چلا سکی تھی۔ انسانی مزاج ہے کہ وہ ایسی تبدیلیوں سے نئی امیدیں باندھ لیتا ہے اور اپنے پچھلے دکھ درد بھول جاتا ہے۔ یہی حال پانچ سال کے بعد نیا وزیراعظم اور اس کی نئی کابینہ بننے پر ہوتا ہے کہ عوام‘ اپوزیشن اور میڈیا کچھ ماہ آرام سے بیٹھ جاتے ہیں کہ چلیں دیکھتے ہیں نئی حکومت کیا کرشمے دکھا تی ہے ‘ ابھی اسے کچھ نہیں کہتے۔ اسے ہنی مون پیریڈ کہا جاتا ہے‘ لیکن حکومتوں کے ذہن میں کچھ کرنے کا جذبہ کم ہی ہوتا ہے اور جب دیکھتے ہیں کہ عوام کا دو ڈھائی سال کے بعد پیمانۂ صبر لبریز ہو رہا ہے تو پھر وہ خبر چلواتے ہیں کہ وزیراعظم نے اپنی کابینہ میں تبدیلی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارتوں کی کارکردگی پر بریفنگ ہوگی اور پھر قسمت کا فیصلہ ہوگا۔
میں آپ کو ماضی سے مثالیں دے کر بور نہیں کرنا چاہتا ورنہ آپ کو پورا پیٹرن سمجھ میں آ جاتا کہ ان وزیروں کی تبدیلیوں کی خبروں کے پیچھے کیا اصل محرکات ہوتے ہیں اور کیسے وزیروں کو ایک دوسرے کے کپڑے اور جوتے پہنا کر عوام کو خوش کر دیا جاتا ہے کہ دیکھا! ہم نے نالائقوں کی وزارتیں بدل دی ہیں۔ اب عوام اور میڈیا کچھ دن اپنے گھوڑے چھاؤں کے نیچے باندھیں۔ مجھے ایک بات پر ہنسی آتی ہے کہ 2010ء میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد اسلام آباد میں کتنے وزیروں کی ضرورت رہ گئی ہے؟ اس وقت چالیس سے زائد وزارتیں ہیں جو وفاقی حکومت نے ختم کرنی تھیں کیونکہ سب کچھ صوبوں کو منتقل کر دیا گیا تھا۔ میرے حساب سے اسلام آباد میں آپ کو زیادہ سے زیادہ دس وزیروں کی ضرورت ہے لیکن اس وقت پچاس سے زائد وزیر‘ ڈپٹی وزیر‘ مشیر‘ معاونِ خصوصی اور یار دوست کابینہ میں بیٹھے ہیں۔ ایک ایک وزارت میں ایک وفاقی وزیر‘ ایک وزیرِ مملکت‘ ایک مشیر‘ ایک معاونِ خصوصی اور ایک پارلیمانی سیکرٹری ہے۔ ان سب کا کام دیکھ لیں تو آپ حیران ہوں گے کہ اس وزارت میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد جو کام بچ گیا ہے وہ ایک سیکشن آفیسر یا کلرک کے کرنے کا ہے کیونکہ وفاقی حکومت کی چند وزارتیں چھوڑ کر باقی کا دائرہ کار صرف چوبیس کلومیٹر پر محیط ہے‘ جس پر اسلام آباد قائم ہے۔ چوبیس کلومیٹر کے شہر پر حکومت کیلئے پچاس ساٹھ وزیر اور مشیر ہیں۔ اگر اچھے قابل وزیروں کی ضرورت ہے تو وہ صوبوں میں ہے‘ جہاں اصل طاقت اور اختیارات سولہ سال پہلے ٹرانسفر کر دیے گئے تھے۔ صوبوں میں نئی وزارتیں بنائی گئیں اور ساتھ میں وفاقی حکومت میں وزارتیں کم کرنے کے بجائے الٹا وزیروں کی تعداد بڑھا دی گئی۔
فیملی فرینڈز پیکیج میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ یار دوست بھی وزیر بنا دیے جاتے ہیں اور جب حاکموں کو لگتا ہے کہ شاہی کشتی پر بوجھ بڑھ رہا ہے تو دو ڈھائی سال کے بعد وزیروں کی ایک دوسرے کی وزارتوں کے ساتھ تبدیلی کی خبریں لیک ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ مقصد عوام کو نئے ٹرک کی پرانی بتی کے پیچھے لگانا ہوتا ہے۔ آج کل اسلام آباد وہی موسم آیا ہوا ہے۔
Load/Hide Comments

