کینیڈا کے صوبے نیو برنزوک کی قانون ساز اسمبلی میں پیش آنے والا ایک غیر معمولی واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، جہاں رکنِ اسمبلی بل اولیور اپنی تقریر کے دوران مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹ کی دی گئی ہدایات بھی لفظ بہ لفظ پڑھ گئے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد انہیں شدید تنقید اور طنزیہ تبصروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ واقعہ 9 جون کو اسمبلی اجلاس کے دوران پیش آیا، تاہم حالیہ دنوں میں اس کی ویڈیو دوبارہ گردش میں آنے کے بعد موضوعِ بحث بن گئی۔ پروگریسو کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے بل اولیور، جو کنگز سینٹر کے رکنِ اسمبلی، سابق اسپیکر اور سابق صوبائی وزیر بھی رہ چکے ہیں، توانائی کے شعبے سے متعلق ایک مجوزہ قانون پر اظہارِ خیال کر رہے تھے۔
تقریر کے دوران اچانک انہوں نے وہ عبارت بھی پڑھ دی جو دراصل اے آئی چیٹ بوٹ کی جانب سے متن میں ترمیم کے لیے دی گئی ہدایت تھی۔ ویڈیو میں انہیں یہ الفاظ ادا کرتے سنا جا سکتا ہے کہ ’یہ اس حصے کا زیادہ قدرتی اور روانی سے بھرپور ورژن ہے، جو مختصر نکات کے بجائے ایک پارلیمانی تقریر کی طرح محسوس ہوتا ہے۔‘ یہی جملہ اس بات کا ثبوت بن گیا کہ تقریر میں اے آئی کی ہدایات حذف کیے بغیر ہی اسمبلی میں پیش کردی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی نکات کو باقاعدہ پارلیمانی تقریر کی شکل دینے کے لیے مصنوعی ذہانت کا سہارا لیا گیا تھا، تاہم حتمی متن کا جائزہ نہیں لیا گیا، جس کے باعث اے آئی کی داخلی ہدایات بھی تقریر کا حصہ بن گئیں۔
اس واقعے نے اس لیے بھی زیادہ توجہ حاصل کی کیونکہ بل اولیور اسی وقت اپنی تقریر میں عوامی اعتماد، شفافیت اور احتساب جیسے موضوعات پر گفتگو کر رہے تھے، جبکہ ان کی اپنی تقریر میں ایسی بنیادی غلطی سامنے آگئی۔Time & Calendars

