بلوچستان، صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے پڑھے لکھے نوجوان دربدر کی ٹھوکرنے کھانے پر مجبور

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالہ یوسف خلجی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے پڑھے لکھے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لئے دربدر کی ٹھوکرنے کھانے پر مجبور ہیں اورسرکاری نوکریاں سرعام فروخت ہورہی ہیں جس سے پڑھے لکھے نوجوانوں میں مایوسی پھیل رہی ہے اور وہ بے راہ روای اور غیر راستوں پرانتخاب کرنے پر مجبور ہیں بلوچستان کا مسئلہ دہشت گردی نہیں بلکہ معاشی ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں لالہ یوسف خلجی نے کہا کہ بلوچستان میں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بارڈر اورسرکاری نوکریاں تھیں گزشتہ کافی عرصے سے افغانستان اور ایران کے بارڈر بند ہونے کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں اوردوسری جانب سرکاری نوکریاں سرعام فروخت کی جارہی ہیں جس سے نوجوان نسل میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پڑھے لکھے نوجوان نوکریاں نہ ملنے کی وجہ سے غلط راستوں کا انتخاب کررہے ہیں جس کا فائدہ دہشت گرد تنظیمیں اٹھارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان امن جرگے کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ دہشت گردی نہیں بلکہ معاشی ہے اگر پڑھے لکھے نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کی جائیں تو دہشت گردی کا خود بخود خاتمہ ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی وزراء سرکاری محکموں میں میرٹ پر نوکریاں دینے کی بجائے سرعام لاکھوں روپے کے عوض فروخت کر رہے ہیں جس کی بلوچستان امن جرگہ مذمت کرتا ہے۔ لالہ یوسف خلجی نے کہا کہ اگر پڑھے لکھے نوجوانوں کو میرٹ پر نوکریاں فراہم کی جائیں تو صوبے اور ملک سے بے راہ روی اور دہشت گردی خودبخود ختم ہوجائے گی کیونکہ نوکریاں نہ ملنے کی وجہ سے پڑھے لکھے نوجوان ملک دشمن عناصرکے ہاتھوں چڑھ جاتے ہیں جس کسی بھی طرح ملک اور صوبے کے مفاد میں نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں