تربت (سرتاج گچکی)آج ڈاکٹر جنید ایوب گچکی کی چھٹی برسی ہے۔اِس لئے آج کےدناا کی مناسبت سے چند سطور قارئین کی نظر کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر جنید ایوب گچکی کی سیاسی و سماجی خدمات کی سے پوشیدہ نہیں کیونکہ ڈاکٹر جنید ایوب گچکی صرف ایک ڈاکٹر نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا مسیحا تھا۔ ان کی زندگی کا مقصد نہ صرف پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانا تھا بلکہ دکھی انسانوں کے ساتھ دکھ بانٹنا، ضرورت مندوں کا علاج کرنا اور معاشرے کے محروم طبقات کے لیے آسانیاں پیدا کرنا اُس کی زندگی کا محور تھا۔ ڈاکٹر جنید ایوب گچکی ایک ایسی شخصیت کا مالک تھا جنہوں نے طب کے مقدس پیشے کو انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بنایا۔ ان کے لیے مریض محض ایک بیمار نہیں بلکہ سب سے پہلے ایک انسان تھا، جس کے درد کو سمجھنا، اس کا علاج کرانا اور اسے زندگی جینے کا حوصلہ دینا ان کی اولین ترجیح تھا۔ان کی شخصیت میں اخلاق و شائستگی، عزت و احترام، ہمدردی اور خدمتِ خلق کا عنصر کا نمایاں غلبہ پایا جاتا تھا۔ وہ ہمیشہ ضرورت مند اور مستحق افراد کے لیے دستیاب رہتا تھا اور اپنی صلاحیتوں کو ذاتی مفاد کے بجائے انسانی بھلائی کے لیے استعمال کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے وابستہ لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے عزت اور محبت ہمیشہ زندہ رہے گی۔ ڈاکٹر جنید ایوب گچکی کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حقیقی عظمت عہدے، دولت یا شہرت میں نہیں بلکہ انسان کے کام آنے میں ہے۔ انہوں نے اپنے کردار اور خدمت سے ثابت کیا کہ ایک ڈاکٹر صرف جسمانی بیماری کا علاج نہیں کرتا بلکہ اپنے حسنِ سلوک سے انسان کے دل میں امید بھی پیدا کرتا ہے۔ ان کی خدمات ان کے چاہنے والوں اور ان تمام انسانوں کے لیے ایک روشن مثال ہیں جن کے ساتھ انہوں نے محبت، خلوص اور ہمدردی کا برتاؤ کیا۔ ایسے لوگ جسمانی طور پر ہم سے جدا ہو جائیں تو بھی ان کی خدمت، کردار اور یادیں معاشرے میں زندہ رہتی ہیں۔ ڈاکٹر جنید ایوب گچکی بلاشبہ انسانیت کی خدمت کے ایک روشن استعارے تھے، اور ان کی زندگی خدمتِ خلق کی ایک قابلِ تقلید داستان

