تحریر: میر عارف بگٹی
سوئی کی سرزمین ہمیشہ سے اپنی قبائلی روایات، مہمان نوازی، رواداری اور باہمی احترام کے حوالے سے ایک منفرد شناخت رکھتی ہے۔ اسی معاشرے میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے کردار، خلوص اور انسان دوستی کی بدولت لوگوں کے دلوں میں ایک خاص مقام بنا لیتی ہیں۔ چیف آف موندرانی وڈیرہ محمد بخش موندرانی بگٹی بھی انہی باوقار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
وڈیرہ محمد بخش بگٹی سوئی کے ایک مخلص، بااثر اور انسان دوست قبائلی رہنما ہیں۔ ان کی سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے لوگوں کے دکھ درد کو صرف سنتے نہیں بلکہ حتی المقدور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ مشکل وقت میں اپنی قوم کے افراد کے ساتھ کھڑے ہونا اور ان کی آواز بننا ان کی قبائلی ذمہ داریوں کا اہم حصہ ہے۔
چیف آف موندرانی کی شخصیت میں قبائلی وقار کے ساتھ ساتھ سادگی، خلوص اور عوامی خدمت کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کی بیٹھک اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں آنے والے شخص سے اس کے قبیلے، حیثیت یا منصب کی بنیاد پر فرق نہیں کیا جاتا۔ دن بھر ان کی بیٹھک میں لوگوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے، جہاں مختلف علاقوں اور مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے مسائل اور پریشانیاں لے کر آتے ہیں۔
یہی اعتماد وڈیرہ محمد بخش بگٹی کی اصل طاقت ہے۔
آج سوئی میں صرف موندرانی قبیلے کے لوگ ہی نہیں بلکہ دیگر قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اپنے مسائل لے کر چیف آف موندرانی کے پاس پہنچتے ہیں۔ یہ کسی بھی قبائلی رہنما کے لیے ایک بڑے اعزاز کی بات ہے کہ لوگ اسے صرف اپنے قبیلے کا سردار یا رہنما نہیں بلکہ اپنا خیرخواہ اور ہمدرد سمجھیں۔
وڈیرہ محمد بخش بگٹی کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کا خاندانی تعلق بھی ہے۔ وہ ایم این اے سبی ڈویژن اور وفاقی پارلیمانی سیکریٹری وڈیرہ میاں خان بگٹی کے بڑے بھائی ہیں۔ تاہم ان کی اپنی پہچان بھی ایک ایسے قبائلی رہنما کی ہے جو اپنے علاقے کے لوگوں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور ان کے مسائل کو اہمیت دیتے ہیں۔
قبائلی معاشرے میں قیادت صرف نام، منصب یا سرداری کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ذمہ داری ہے۔ اصل قیادت وہی ہے جو لوگوں کے درمیان موجود رہے، ان کے مسائل سنے، ان کے دکھ میں شریک ہو اور خوشی کے موقع پر بھی ان کے ساتھ کھڑی ہو۔ وڈیرہ محمد بخش موندرانی بگٹی کی عوامی بیٹھک اور لوگوں سے ان کا مسلسل رابطہ اسی طرزِ قیادت کی عکاسی کرتا ہے۔
آج جب معاشرے میں فاصلے بڑھ رہے ہیں، ایسے میں لوگوں کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھنا، ہر آنے والے کی بات تحمل سے سننا اور اپنی بساط کے مطابق اس کی مدد کرنا ایک قابلِ قدر روایت ہے۔ وڈیرہ محمد بخش بگٹی نے سوئی میں اسی روایت کو زندہ رکھا ہوا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی عزت صرف موندرانی قبیلے تک محدود نہیں بلکہ سوئی کے مختلف قبائل اور طبقات کے لوگ بھی انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لوگوں کا اعتماد کسی بھی رہنما کے لیے سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے، اور چیف آف موندرانی نے اپنی مسلسل عوامی وابستگی اور انسان دوستی کے ذریعے یہ اعتماد حاصل کیا ہے۔
وڈیرہ محمد بخش موندرانی بگٹی کی شخصیت اس حقیقت کی خوبصورت مثال ہے کہ ایک قبائلی رہنما کی اصل پہچان اس کے منصب سے نہیں بلکہ اس کے کردار، خلوص اور لوگوں کے لیے اس کے دل میں موجود احساس سے ہوتی ہے۔
سوئی کی قبائلی روایات میں ایسے کردار یقیناً قابلِ احترام ہیں جو اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے رہیں اور دوسروں کے لیے بھی اپنے دل اور دروازے کھلے رکھیں۔ چیف آف موندرانی وڈیرہ محمد بخش بگٹی بھی اسی روشن روایت کے ایک نمایاں امین ہیں۔اگر آپ چاہیں تو میں اسی کالم کو مزید جذباتی، ادبی اور اخباری انداز میں بھی بنا سکتا ہوں، جس میں وڈیرہ محمد بخش بگٹی کی شخصیت کو ایک ہیرو اور عوامی رہنما کے طور پر مزید مؤثر انداز میں پیش کیا جائے۔

