کھاد کی عدم فراہمی کے خلاف زمیندار ایکشن کمیٹی نے قومی شاہراہ N-65 پر ناڑی پل کے مقام پر احتجاجی دھرنا دے کر ہر قسم کی ٹریفک معطل کردی

سیوی(نامہ نگار)کھاد کی عدم فراہمی کے خلاف زمیندار ایکشن کمیٹی نے قومی شاہراہ N-65 پر ناڑی پل کے مقام پر احتجاجی دھرنا دے کر ہر قسم کی ٹریفک معطل کردی، جس کے باعث قومی شاہراہ کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور ہزاروں مسافروں کو شدید گرمی میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔تفصیلات کے مطابق زمیندار ایکشن کمیٹی کی جانب سے کھاد کی عدم فراہمی کے خلاف صبح سویرے ناڑی پل کے مقام پر احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ دھرنے میں زمینداروں کے علاوہ قبائلی، سیاسی و سماجی شخصیت میراصغر خان مری٬سردار ابراہیم خان باروزئی٬ڈاکٹر سید نوراحمد شاہ خجک٬ملک احمد خان لونی٬ملک اکبر دہپال٬سعید احمد خجک٬ایڈوکیٹ عنایت اللہ مرغزانی٬میر سلیم خان مرغزانی٬میراسلم گشکوری٬مولانا محمدادریس رند٬ملک فقیر محمد مرغزانی٬نوروز خان مرغزانی٬ اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی مظاہرین نے کھاد کی فوری فراہمی اور زمینداروں کو درپیش مشکلات کے ازالے کا مطالبہ کیا دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کپاس کی فصل اہم مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، تاہم عین فصل کی تیاری کے وقت زمینداروں کو کھاد کی فراہمی روک دی گئی ہے۔ کھاد دستیاب نہ ہونے کے باعث لاکھوں روپے مالیت کی فصل متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے زمینداروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہےمقررین کا کہنا تھا کہ سیوی اور گردونواح کے بیشتر لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ ہے۔ اگر زرعی شعبے کو بروقت کھاد، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم نہ کی گئیں تو نہ صرف زمیندار معاشی مشکلات کا شکار ہوں گے بلکہ علاقے کی مجموعی معیشت بھی متاثر ہوگی انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ زراعت کی جانب سے ایک سال قبل زرعی زمینوں کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا گیا تھا، مگر رجسٹریشن کے باوجود زمینداروں کو کھاد کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جارہی۔ زمینداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کھاد کی منصفانہ اور بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور مبینہ قلت و تقسیم کے معاملے کی تحقیقات کی جائیں قومی شاہراہ کی بندش کے باعث کوئٹہ، سبی، ڈیرہ مراد جمالی اور دیگر علاقوں سے آنے جانے والی مسافر گاڑیوں، کوچز، ٹرکوں اور دیگر ٹرانسپورٹ کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ شدید گرمی میں کئی گھنٹوں تک ٹریفک کی روانی متاثر ہونے سے مسافروں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو بالخصوص مشکلات کا سامنا کرنا پڑا دھرنے کے موقع پر سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس کی بھاری نفری قومی شاہراہ اور دھرنے کے اطراف تعینات رہی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جاسکے بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر سیوی ملک بہادر بنگلزئی نے دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کیے اور زمینداروں کے مطالبات سنے۔ مذاکرات کے بعد مظاہرین نے دھرنا ختم کردیا، جس کے بعد قومی شاہراہ N-65 کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بحال کردیا گیا اور سڑک کے دونوں اطراف پھنسی گاڑیوں کی روانی شروع ہوگئی زمیندار ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ کھاد کی فراہمی کے مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ کپاس سمیت دیگر فصلوں کو نقصان سے بچایا جاسکے، بصورت دیگر زمیندار اپنے احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں